ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

سانحہ تیز گام: ٹرین میں آگ کیسے لگی؟کڑیاں آپس میں مل گئیں،سی ای او ریلوے کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دوست محمد لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ 31 اکتوبر کو تیز گام ٹرین میں آگ شارٹ سرکٹ سے لگی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو ریلوے دوست محمد لغاری نے مزید بتایا کہ کوچ 12 ڈائننگ کار میں الیکٹرک کیٹل کے استعمال میں تارگرم ہونے سے آگ لگی۔

12 نمبربوگی میں بجلی بوگی نمبر 11کی الیکٹرک کیبن سے غیر قانونی لی گئی تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وائرنگ متاثر ہونے سے مسافر بوگی میں پہلے دھواں بھرا پھر آگ لگی جس نے بوگی نمبر 12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جب کہ ٹرین کی بوگی میں آگ لگنے کے بعد سلنڈر پھٹا۔دوست محمد لغاری نے کہا کہ تیز گام سانحہ میں 76 افراد جاں بحق اور 48 مسافر زخمی ہوئے تھے، میں نے بطور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر ریلویز انکوائری رپورٹ مرتب کی، حادثے میں ڈپٹی ڈی ایس اور کمرشل آفیسر سمیت 15 لوگ ذمہ دار قرار پائے جن میں سے افسران اور دیگر عملہ معطل ہے۔سی ای او ریلوے کا کہنا تھا کہ ریلوے چاروں صوبوں کو ملانے والا سرکاری ادارہ ہے اسے بند کرنے کی ضرورت نہیں، ریلوے آفیسرز اور ملازمین ساتھ مل کر ٹرین کا سفر آرام دہ اور محفوظ بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال مال گاڑیوں کی تعداد بڑھا کر ریلوے کا خسارہ کم کریں گے، پہلی بار مسافر ٹرینوں کی تعداد بڑھا کر ٹارگٹ سے 5 ارب روپے زیادہ کمائے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 31 اکتوبر کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے قریب آگ لگی جس کے نتیجے میں 76 افراد جاں بحق اور 48 سے زائد زخمی ہوگئے۔گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے اس حادثے پر شیخ رشید پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بتا دیں 70 آدمیوں کیمرنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے؟ ریل جلنے کے واقعے پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…