اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2019  |  13:25

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضے واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ آگاہ کیا جائے غیرقانونی تعمیرات اور قبضے کب تک ختم ہونگے؟ کیا اسلام آباد کی زمین کا استعمال ماسٹر پلان کے مطابق ہو رہا ہے؟ ماسٹر پلان کے خلاف استعمال ہونے والی زمین کی نشاندہی گوگل میپ سے کی جائے، سی ڈی اے افسران مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، مس کنڈکٹ کے مرتکب افسران کیخلاف سول اور فوجداری کارروائی کی جائے، سی ڈی کو مالی نقصان پہنچانے والے افسران سے ریکوری کی جائے ،چھ ہفتے میں


متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے جبکہ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مچھلی بازار والی حالات کی اجازت نہیں دی جاسکتی،عدالت کا آرڈر آچکا ہے آپ کو اسکو سمجھنا ہوگا،ملک کی سب سے اعلی عدالت کے احکامات کا چیئرمین این ایچ اے کو علم نہ ہونا تعجب کی بات ہے ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں سینٹورنس مال کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین سی ڈی اے اورچیئرمین این ایچ اے عدالت میں پیش ہوئے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ پہلے ہم چیئرمین سی ڈی اے کو سنیں گے ۔عامر احمد علی ،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ وزارت داخلہ کابینہ کی منظوری سی ڈی اے کے نئے بورڈ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ اس کارروائی سے عوام کا کیا فائدہ ہوگا،میں جب آیا تھا تو سی ڈی اے بھاری مشکلات سے دوچار تھا۔ چیئر مین سی ڈی اے نے کہاکہ اب سی ڈی اے کے پاس 11ارب روپے سے زائد کے فنڈز موجود ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ان پیسوں کا کیا فائدہ جب عوام کی مشکلات دور نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ جہاں جاتا ہوں وہاں کے حالات خراب نظر آتے ہیں،جو کچھ دیکھتا ہوں افسوس ہوتا ہے اسلام آباد آج وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے منصوبہ بندی کے تحت ایک شہر بنایالیکن آج اسکا حشر بگاڑ دیا ہے ، ملٹی اسٹوری بلڈنگ کی اجازت آپ کیسے دل رہے ہیں ،کیا یہان زلزلے نہیں آتے ۔انہوںنے کہا کہ بلڈنگ کتنا زلزلہ برداشت کرسکتی ہے معاملے کو کون دیکھتا ہے ، سیاستدانوں کے کہنے پر آپ نے ملٹی اسٹوری بلڈنگ کی اجازت دی ۔انہوںنے کہاکہ کشمیر ہائی وے پر بل بورڈز لگے ہوئے ، ایئرپورٹ سے اسلام آباد داخل ہونے تک کوئی لائٹ نہیں ہے ۔ عامر احمد علی نے کہاکہ گزشتہ ہفتے ہم نے بلڈنگ قوائد بنادیئے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔ چیئر مین سی ڈی اے نے کہاکہ کشمیر ہائی وے کے بورڈ اورلائٹس کی ذمہ داری میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کی ہے ،سی ڈی اے کشمیر ہائی وے پر ایک لاکھ پودے لگا رہا ہے ۔چیئر مین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے تجاوزات کے ذمہ دارافسران کیخلاف کارروائی عمل میں لارہا ہے ۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ سروس روڈز کوپلازہ اپنی پارکنگ کیسے استعمال کررہے ہیں،شام کو سینٹورس کے چاروں اطراف دیکھئے مچھلی بازار لگتا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں مچھلی بازار والی حالات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوںنے کہاکہ پارکنگ کہاں سے لانی ہے سینٹورس کا ذاتی معاملہ ہے ۔ چیئر مین سی ڈی اے نے کہا کہ سینٹورس سے محلقہ علاقے کو دوبارہ سیل کردیا گیا ہے ، عدالت نے بجا طور پر نشاندہی کی ،سینٹورس نے سرکاری جعلی کاٹ کرموٹرسائیکلز کی پارکنگ بنا رکھی تھی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ اس جگہ کو عوام کے استعمال کیلئے بنائیں ،یہاں پارکنگ پلاٹس اوردرخت لگائیں تاکہ عوام کو بھلا ہو۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ یہ پارکنگ سینٹورس کی نہیں ہوگی،دنیا بھر میں پلازے اپنے پارکنگ کا خود اتنظام کرتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ میئر اسلام آباد اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتے ،آپ کے پاس بجٹ اور11ہزار لوگ ہیں۔ میئر اسلام آباد نے کہاکہ ہمارے لوگوں کی تبادلہ وزارت داخلہ کررہی ہے، ہمارا بجٹ بھی حصے کے مطابق ہمیں نہیںمل رہا ہے۔ دور ان سماعت چیئرمین این ایچ اے عدالت میں پیش ہوئے ۔جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیاکہ آپ گزشتہ سماعت پر عدالت میں کیوں موجود نہیں تھے ۔ چیئر مین این ایچ اے نے کہاکہ میں فیلڈ میں تھا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ جب عدالت نے آپ کو طلب کررکھا ہے تو آپ فیلڈ میں کیوں گئے؟ ۔چیئر مین این ایچ اے نے کہا کہ عدالت سے معذرت چاہتا ہوں ساری غلطی میری اپنی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کیا آپ ہائی وے پر سفر کرتے ہیں یا خالی جہاز پر ہی سفر کرتے ہیں ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کیا کراچی حیدرآباد کا حال آپ نے دیکھا ہے ، کیا وہ روڈ موٹر وے کہلانے کا لائق ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ اس کی حالت عام روڈ سے بھی بدتر ہوچکی ہے ، عدالت کا آخری عبوری حکم کا اندازہ ہے آپ کو۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ روڈ ناقص ہونے کی بنیاد پرجو حادثات ہوں گے انکے آپ ذمہ دار ہوں گے ۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ پولیس والوں کو کہہ دیتے ہیں کہ جو بھی روڈ ناقص ہونے کے باعث حادثہ ہو چیئرمین این ایچ اے کو شامل کیا جائے، ہر ماہ 5ہزار 3سو مقدمات آپ کے اوپر آئیں گے ۔انہوںنے کہاکہ آپ قانون کو سمجھ نہیں رہے یہی قانون پھانسی کے پھندے تک لے جاتا ہے ، عدالت کا آرڈر آچکا ہے آپ کو اسکو سمجھنا ہوگا۔ چیئر مین این ایچ اے نے کہاکہ عدالت وقت دے ،عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کروں گا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ چترال گلگت روڈ پر کبھی آپ نے سفر کیا ہے ،یہ منصوبہ دو مرتبہ کاغذوں میں بن چکا ہے لیکن وہاں روڈ کا نام ونشان نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ سمجھتے ہیں ہمیں کچھ علم نہیں،آپ کو اپنی چاروں طرف نظر رکھنی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ ٹاپ سٹی والا علاقہ بھی کچی آبادی ہے سٹرکیں ہی نہیں ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے میئر اسلام آباد سے مکالمہ کیا کاہ وہاں بھی کوئی صفائی کوئی سٹرک نہیں وہ تو ایم سی آئی کے ناک کے نیچے ہے۔ انہوںنے کہاکہ جہاں دل کرے وہاں جا کر جھنڈا لگا دیں کہ یہ اسلام آباد کی حد ہے، ایک ہلتی ہوئی میٹرو پورے شہر میں چل رہی ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ رکشے لے کر آئیں لوگوں کو اپنی ثقافت دکھائیں، کوئی ایک رکشہ نظر نہیں آتا، کشمیر ہائی پر کہیں سٹرک پتلی اور کہیں چوڑی ہو جاتی ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرا ڈرائیور فٹ پاتھ پر نہ چڑھا دے۔انہوںنے کہاکہ 11جون 2019کو عدالت نے حکم دیا تھا , چیئرمین کو این ایچ اے میں آئے 4ماہ ہوچکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملک کی سب سے اعلی عدالت کے احکامات کا چیئرمین کو علم نہیں ہونا تعجب کی بات ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضے واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ آگاہ کیا جائے غیرقانونی تعمیرات اور قبضے کب تک ختم ہونگے؟ کیا اسلام آباد کی زمین کا استعمال ماسٹر پلان کے مطابق ہو رہا ہے؟ ماسٹر پلان کے خلاف استعمال ہونے والی زمین کی نشاندہی گوگل میپ سے کی جائے، سی ڈی اے افسران مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ مس کنڈکٹ کے مرتکب افسران کیخلاف سول اور فوجداری کارروائی کی جائے۔عدالت نے سی ڈی کو مالی نقصان پہنچانے والے افسران سے ریکوری کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کہاکہ چھ ہفتے میں متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، میئر اسلام آباد نے گیارہ ہزار کا عملہ ہوتے ہوئے بھی ہتھیار ڈال دئیے، میئر کے مطابق وہ اپنے عملے کی پوسٹنگ ٹرانسفر بھی نہیں کر سکتے ،میونسپل کارپوریشن کیساتھ یہی سلوک کرنا تھا تو بنایا ہی کیوں گیا؟ تمام ترقیاتی کام ایم سی آئی کی منظوری سے ہی ہونگے، سیکرٹری داخلہ اسلام آباد کے انتظامی مسائل کا حل نکالیں، چیئرمین این ایچ اے گزشتہ روز عدالت کی تحریری احکامات کے باوجود حاضرنہیں ہوئے۔عدالت نے کہاکہ چیئرمین این ایچ اے کو عدالتی کے احکامات کے علم نہ ہونا کس کی ذمہ داری ہے عدالت کو بتایاجائے،کراچی حیدر آباد موٹر وے،چترال گلگت روڈ،حیدر آباد سیون دادو موٹر وے سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے،رپورٹ میں ملک میں تمام ہائی ویز کی صورتحال کے حوالے سے مجموعی طور پرعدالت کو بتایاجائے۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ چیئرمین سی ڈی اے گزشتہ 30 سالوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ دیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 6 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ۔

موضوعات: