جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سینئر ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس ایک مرتبہ پھر چیلنج، درخواستوں کی تعداد 7 ہوگئی ،حکومت پر سنگین الزامات عائد کردیئے گئے

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف ایک اور درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کردی گئی۔ میڈیا رپورٹ   کے مطابق سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ صدارتی ریفرنس کے خلاف یہ درخواست سندھ بار کونسل (ایس بی سی) کی جانب سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے دائر کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال اس بینچ کی سربراہی کریں گے جس میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل ہوں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف نئی درخواست سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں صدر عارف علوی، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔اس نئی درخواست کے ساتھ صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جس میں ایک درخواست خود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔دیگر درخواستیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، جورسٹ عابد حسن منٹو اور سماجی کارکن آئی اے رحمٰن جبکہ ایک درخواست کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف ریکی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔اپنی پٹیشن میں سندھ بار کونسل نے موقف اختیار کیا کہ صدارتی ریفرنس دائر کرنے میں وفاقی حکومتی کی بددیانتی دیکھائی دیتی ہے جو عدلیہ کی آزادی کو بیڑیوں میں جکڑنا چاہتی ہے جو اختیارات کی تقسیم کے تصور کے خلاف ہے جو آئین پاکستان میں وضع کیے گئے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنسز کے معاملے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدیدی مصالحت دکھائی دیتی ہے جو سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری رولز 2005 میں وضع طریقہ کار میں بے ضابطگی کو اجاگر کرتی ہے۔

خیال رہے کہ اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے فوری بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ریفرنس میں دونوں جج صاحبان پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزمات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…