ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

امریکی افواج کے انخلاء کا منصوبہ، طالبان جنگجواوران کے حمایتی خوش امریکی افغانستان سے نکلنے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ حیران کن اعلان کر دیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

کابل(این این آئی )طالبان کے وفادار اور حمایتی امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر خوش ہیں کہ اٹھارہ سال کی شدید جنگ کے بعد ’’شکست خوردہ‘‘ امریکی ’’حملہ آور‘‘ آخر کار افغانستان چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ طالبان کی مختلف یقین دہانیوں کے عوض پینٹاگون اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد انتہائی کم کر دے گا۔ طالبان اور ان کے حمایتی اسے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں، اس حوالے سے قندہار میں متعدد طالبان جنگجوؤں اور ان کے حمایتیوں سے گفتگو کی ۔

یہ جنوبی صوبہ افغان طالبان کی جائے پیدائش بھی ہے اور ابھی تک اسے طالبان کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔محمد منظور حسینی ماضی میں طالبان کے لیے لڑتے رہے ہیں لیکن دو سال پہلے وہ پاکستان جا کر روپوش ہو گئے تھے اور اب دوبارہ قندہار آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام افغان ایسا امن چاہتے ہیں، جس کی بنیاد اسلامی اقدارپر ہو۔ یہ بالکل ویسا ہی جملہ ہے، جو طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک استعمال کرتے آئے ہیں۔حافظ محمد ولی زابل صوبے کے ڈسٹرکٹ شاہ جوی میں مالی کا کام کرتے ہیں۔ یہ صوبہ قندہار کے ساتھ ہی واقع ہے۔ وہ بھی یہ خبر سن کر خوش ہیں کہ امریکا اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا، ہم تقریبا بیس برسوں سے یہ خبر سننے کے انتظار میں تھے کہ امریکی شرمندگی کے ساتھ افغانستان سے نکل رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ لوگ اب اس ملک میں امن کی دعا کر رہے ہیں۔ ہم بہت لڑ چکے ہیں اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے۔صوبہ ہلمند کی مارجہ ڈسٹرکٹ میں طالبان کمانڈر ملا گل آغا کا کہنا تھا کہ افغان کبھی بھی غیر ملکیوں کو اپنا ‘آقا‘ تسلیم نہیں کریں گے، افغان عشروں سے حملہ آوروں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ پہلے یہ روسی تھے لیکن آج امریکی اور برطانوی ہیں۔ خدائے عزوجل کی مدد سے ہم نے ایک مرتبہ پھر انہیں شکست دے دی ہے۔ ملا گل کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں چوبیس سو سے زائد امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور ہزاروں شدید زخمی ہوئے ہیں، اب امریکا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچے گا، افغان غربت اور سادہ زندگی کو قبول کر لیں گے لیکن کسی کو اپنا آقا تسلیم نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…