پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پولیس اہلکاروں نے ایک نہیں بلکہ کتنی بار ہماری گاڑی پر فائرنگ کی؟سانحہ ساہیوال کے چشم دید گواہ عمیر کا جے آئی ٹی کو دیا گیا بیان منظر عام پر،ہوش اڑا دینے والے انکشافات

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن) سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے شہری خلیل کے بیٹے اور واقعے کے عینی شاہد عمیر نے واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو ریکارڈ کروائے گئے اپنے تحریری بیان میں کہا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے تین بار اْن کی گاڑی پر فائرنگ کی جبکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ ان کی گاڑی کے اندر سے یا باہر سے کسی موٹر سائیکل سے پولیس پر فائرنگ ہوئی۔

ساہیوال سانحے کے حوالے سے حاصل ہونے تحریری بیان کے مطابق مقتول خلیل کے 12 سالہ زخمی بیٹے عمیر نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ نبیلہ، والد خلیل، بڑی بہن اریبہ اور چھوٹی بہنوں منیبہ اور ہادیہ کے ساتھ صبح 8 بجے گھر سے نکلے، تاہم گاڑی جب قادر آباد پہنچی تو پیچھے سے کسی نے فائر کیا، جس سے گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی’۔عمیر کے مطابق ‘پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آکر رکے اور نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کرکے سب سے پہلے ذیشان انکل کو مارا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ روک دی اور فون پر بات شروع کر دی۔ واقعے کے عینی شاید بچے نے بتایا، ‘ابو نے پولیس والوں سے کہا کہ جو چاہے لے لو، لیکن ہمیں نہ مارو، معاف کر دو، لیکن فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور انھوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی، جس سے ابو، ماما اور بہن جاں بحق ہو گئی، فائرنگ کے دوران پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا تھا۔عمیر نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دونوں بہنوں کو نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی، بعدازاں پولیس والے ہم تینوں کو ڈالے میں ڈال کر لے گئے اور ویرانے میں پھینک دیا۔12 سالہ عمیر نے مزید بتایا۔

میں اور منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے کراہتے رہے کہ ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، اس کے بعد پولیس والے واپس آئے، ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسپتال چھوڑ دیا۔عمیر کے مطابق یہ جھوٹ ہے کہ گاڑی سے دہشت گردی کا کوئی سامان برآمد ہوا یا اندر سے کسی نے فائرنگ کی، جبکہ فائرنگ کا حکم دینے والے موقع پر موجود اہلکاروں سے رابطے میں تھے۔

اس طرح عمیر کا بیان ساہیوال واقعے کے بعد گرفتار سی ٹی ڈی اہلکاروں کے بیان سے متصادم ہے، جنہوں نے دورانِ تفتیش اس بات سے انکار کردیا تھا کہ گاڑی پر فائرنگ ان کی جانب سے کی گئی۔سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ گاڑی میں سوار افراد موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ذرائع کے مطابق جب جے آئی ٹی نے ملزمان سے سوال کیا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ جس پر ملزمان نے فائرنگ میں پہل کرنے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ‘ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا تھا، ہم نے صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…