منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

’’تھر‘‘ میں معصوم بچوں کی ہلاکت پرحکمرانوں کی مجرمانہ غفلت،اب کوئی بھی نہیں بچے گا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا، کھلبلی مچ گئی

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 12 دسمبر کو تھر کا دورہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سندھ حکومت کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے تھر میں بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘میں 12 دسمبر کو تھر جا رہا ہوں، حکومت سندھ انتظامات کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تھر میں نومولود بچے ہلاک ہو رہے ہیں، وہاں پانی کی فراہمی اور دستیابی کے بھی مسائل ہیں، صرف اچھے علاقے نہ دکھائیں، مجھے وہ علاقے بھی دکھائیں جہاں غربت اور مسائل ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سیشن جج سے رپورٹ مانگی تھی۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد میں خوراک کی تقسیم کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 12 دسمبر کو تھر جا کر خود اس معاملے کو دیکھیں گے، پھر معاملے کو سننا بہتر ہوگا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ جب تک آپ آئیں گے حالات بہتر ہو چکے ہوں گے اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ تھر میں ڈاکٹروں کو کیا اضافی مراعات دے رہے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ گریڈ ون سے 11 تک کے ملازمین کو 10 ہزار اضافی، گریڈ 12 سے 16 تک کے ملازمین کو 17 ہزار اضافی، گریڈ 17 کے ملازمین کو 90 ہزار جبکہ گریڈ 18 سے اوپر 1 لاکھ 40 ہزار اضافی دے رہے ہیں۔سماعت کے دوران رکن اسمبلی رمیش کمار ونکوانی نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کو تھر میں لایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مٹھی میں زچہ و بچہ کے لیے ڈاکٹرز نہیں ہیں جبکہ تھر میں جانوروں کے ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اپنی آنکھوں سے اصل صورتحال کے بعد اس معاملے کو سنیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سندھ حکومت کی درخواست پر کمنٹس دینے کو کہا۔جس پر عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ تھر میں احتساب اور نگرانی کے موثر نظام کی ضرورت ہے لہذا ایک عدالتی کمیشن مقرر کر دیا جائے۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ تھر میں بینک قرضوں کا بہت بڑا معاملہ ہے اور قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں جس پر نمائندہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسانوں کے قرضے کو ری شیڈول کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 11 اور 12 دسمبر کو کراچی جا رہے ہیں، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنا دیں گے بعدازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…