جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’شریف برادران سمیت آدھی ن لیگ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی‘‘ چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر دھماکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کا فل بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فل بینچ پانچ دسمبر کو اسلام آباد میں درخواست کی سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ بینچ میں میرے اور جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت پانچ جج صاحبان شامل ہوں گے۔

بینچ میں دیگر صوبوں کی نمائندگی بھی ہو گی۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے عدالت کو بتایا کہ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ہمارا کیس زیرو پر آ گیا ہے، ہماری استدعا ہے کہ کیس کی دوبارہ تفتیش کے لئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیر اعلی شہباز شریف، رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی سمیت 139 نامزد افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف، پرویز رشید، عابد شیر علی، چوہدری نثار، توقیر شاہ، اعظم سلیمان اور مشتاق سکھیرا کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر مظاہرہ بھی کیا مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ سانحہ ماڈل ٹان کے متاثرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور شہدا ماڈل ٹاون کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹان کی متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر 6 اکتوبر کو ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس سے قبل اپریل میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید خاتون کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات بھی کی تھی۔چیف جسٹس نے بسمہ امجد کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامعہ منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…