جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

پاکستان کوشدیددھچکا،ٹیکس چوروں کے لیے محفوظ ممالک نے ایسا جواب دیدیا جس کی کوئی بھی توقع نہیں کررہا تھا

datetime 7  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان کوچھپائی گئی دولت اور عالمی سطح پر ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے جاری مہم کے سلسلے میں معلومات کے حصول میں ٹیکس چوروں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے 11 ممالک کی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے۔تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی (او سی سی ڈی) کے تحت معلومات کے تبادلے کا خودکار نئے پروگرام یکم ستمبر سے نافذ ہوچکا ہے جس میں 101 سے زائد ممالک مالی معلومات کے تبادلے کے لیے اتفاق کر چکے ہیں۔

مالی معاملات میں تبادلے کے شراکت دار ممالک کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے لیے رکن ممالک کو مذاکرات میں چند برس صرف ہوئے۔اس فہرست میں شامل چند ممالک نے پاکستان کو معلومات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی جن میں انگولا، بہاماس، بارباڈوس، برمودا، برٹس ورجن آئس لینڈز، سیمان آئس لینڈز، ہانگ کانگ، موریشش، نیو پاناما اور سیمونا شامل ہیں۔پاکستان اس وقت تین لیکس کی دستاویزات کی تفتیش کر رہا ہے جس میں دو ٹیکس ہیونز پاناما اور بہاماس کے متعلق ہیں جنہوں نے نئے ٹیکس کنونشن کے تحت پاکستان کو خودکار معلومات دینے کی پیش کش نہیں کی۔لیکس میں صرف ان افراد کے نام دیے گئے ہیں جنہوں نے ٹیکس کے محفوظ پناہ گاہ ممالک میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے لیکن حکام کو ان افراد کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنا ایک چیلنج ہے جن کی تفصیلات لیکس میں شامل نہیں ہیں۔پاکستان کو جن ممالک نے ٹیکس چھپانے کے لیے سرمایہ کرنے والے افراد کی تفصیلات دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے ان ممالک میں کیورا ساو?، قبرص، ائرلینڈ، جرسی، لیکسمبرگ، نیدرلینڈز، سیچلیس اور سنگاپور شامل ہیں۔برٹش ورجن آئس لینڈز، کوک آئس لینڈز، سنگاپور، نیدرلینڈز، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور سوئٹزرلینڈ میں دولت چپھانے کے حوالے سے کئی خبریں زیر گردش رہی ہیں اور چند ممالک نے کنونشن کے مطابق کے پاکستان کو معلومات فراہم کرنے کی منظوری دی ہے لیکن سوئس بینکوں سے پاکستانیوں کی دولت واپس لانے کا خواب بدستور ادھورا رہے گا۔

سوئٹزرلینڈ نے تاحال پاکستان کو او ای سی ڈی کنونشن کے تحت کسی بھی بینک اکاونٹ کی تفصیلات خودکار معلومات کے تحت تبادلے کی پیش کش نہیں کی گوکہ سوئٹزلینڈ نے بھارت سمیت 60 ممالک کو اس کنونشن کے تحت اس کی پیش کش کی ہے۔ڈان کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان ڈاکٹر محمداقبال نے بتایا کہ ایف بی آر نے سوئٹزرلینڈ کو او ای سی ڈی کنونش کے تحت پاکستان کو خود کار معلومات کے تبادلے کی درخواست کرتے ہوئے دو خطوط ارسال کردیا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ سوئٹزلینڈ نے اس طرح کی دستاویزات کے حوالے سے پاکستان کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے سوئس حکام کو آگاہ کیا ہے کہ ایف بی آر میں اب یہ نظام متعارف کرادیا گیا ہے اور ‘ہمیں توقع ہے کہ سوئٹزلینڈ ہمیں معلومات فراہم کرے گا’۔ان ممالک کو تفصیلات دینے پر آمادہ کرنے میں ناکامی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ دیگر ممالک کو بھی بڑی پیمانے پر معلومات فراہم کررہے ہیں اور باقی ممالک بھی ان سے رابطے میں ہیں۔

ترجمان ایف بی آر نے کہا کہ اصل مسئلہ دستاویزات کے طریقہ کار کا ہے ‘ہم دیگر ممالک سے معلومات حاصل کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان رواں سال 38 ممالک کو دستاویزات فراہم کرے گا جبکہ یک طرفہ طور پر 10 ممالک سے معلومات حاصل کی جاچکی ہیں اور اگلے سال ستمبر تک مزید 17 ممالک پاکستان کو معلومات سے آگاہ کریں جبکہ دیگر 3 ممالک ستمبر 2020 تک معلومات دیں گے۔خیال رہے کہ ایف بی آر نے اس عمل میں شامل کیسز کے حوالے سے خود کار معلومات کے لیے 6 زون ترتیب دیے ہیں، یہ زونز ملک کے مختلف علاقوں میں ریجنل ٹیکس دفاتر (آر ٹی او) میں قائم کیے گئے ہیں اور یہاں متعلقہ کیسز پر کام کیا جائے گا۔ان لینڈ ریونیو کے 6 کمشنرز کو فوکل پرسنز تعینات کیا جائے گا جو غیر رہائشیوں کے حوالے سے بینکوں سے دستاویزات حاصل کریں گے۔ایف بی آر کے ہیڈکوارٹر میں معلومات کے حصول اور دستاویزات کی چھان بین کے لیے بھی ایک سینٹر بنایا گیا ہے جہاں شفافیت کو یقینی بنانے کے چند مخصوص افسران کی رسائی ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…