جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

الکوحل اور منشیات کے استعمال کا پتہ لگانے کیلئے تمام امیدواران کے خون اورپیشاب کے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں، شہری کی درخواست پر جانتے ہیں الیکشن کمیشن نے کیا جواب دیا؟

datetime 20  جون‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 میں شراب اور منشیات استعمال کرنے والے امیدواروں کو انتخابی عمل سے روکنے سے انکار کر دیا ہے ۔ کراچی کے ایک شہری نثار احمد شیخ نے ایک مکتوب کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا سے درخواست کی تھی الکحل اور منشیات کے استعمال کا پتا لگانے کے لیے تمام امیدواران کے لیے خون اور پیشاب کے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں ۔

جن امیدواران کے یہ ٹیسٹ مثبت آئیں انہیں عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے ۔ نثار احمد شیخ نے اپنے مکتوب میں واضح کیا تھا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت شراب اور دیگر منشیات کو استعمال کرتی ہے۔ اس مکتوب کا الیکشن کمیشن نے تقریبا ایک ماہ کے بعد معذرت کی صورت میں جواب دیا ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر(الیکشن ) عاطف رحیم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں کہا ہے کہ منشیات اور الکحل کے لیے کسی ٹیسٹ کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ چونکہ الیکشن کمیشن قانون سازی نہیں کرسکتا اس لیے اس ٹیسٹ کے لیے مناسب فورم سے رجوع کیا جائے ۔ درخواست گزار نثار احمد شیخ نے ڈپٹی ڈائریکٹر (الیکشن) عاطف رحیم کے جواب میں واضح کیا ہے کہ اس کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے لیے پہلے سے ہی آئین میں حکم موجود ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 62 کی کلازC کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہو اور اس کی شہرت ایسی نہ ہو کہ وہ اسلامی شعائر کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ اسی آرٹیکل 62 کی کلاز D کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے کو اسلامی تعلیمات کی موزوں و مناسب معلومات رکھتا ہو اور گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔

نثار احمد شیخ نے کہا ہے کہ شراب پینا اورمنشیات کا استعمال آئین کے آرٹیکل 62 کے خلاف ہے اس لیے شراب اور منشیات کے استعمال کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے ۔ نثار احمد شیخ نے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار سے بھی اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قانون سازی کس طرح شرابی ، زانی اور منشیات استعمال کرنے والوں کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں صدر پاکستان ممنون حسین سے بھی مداخلت کی اپیل کے لیے انہیں مکتوب بھیجا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…