شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔!!! پرویز خٹک ،جمالی،مراد سعید،تہمینہ درانی،حامد کاظمی سمیت بڑے بڑے سیاستدان سرکاری اداروں کے نادہندہ نکلے،

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  15:20

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آئندہ عام انتخابات کیلئے امیدواروں میں سے 268 سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے بھی نادہندہ نکلے، سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک 10 کروڑ 65 لاکھ، حاجی غلام احمد بلور 14 کروڑ 46 لاکھ اور امجد خان آفریدی 21 کروڑ 62 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کے امیدواروں میں 268 نادہندہ افراد کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوا دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے پرویز خٹک 10 کروڑ 65 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں، اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور 14

کروڑ 46 لاکھ، این اے 18 سے امیدوار حاجی دلدار خان 17 کروڑ روپے، الیاس بلور 55 ہزار روپے، پی ٹی آئی کے میاں محمودالرشید 28 ہزار روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔پی کے 80 سے امیدوار امجد خان آفریدی نے ایس این جی پی ایل کے 21 کروڑ 62 لاکھ روپے ادا نہیں کیے، ن لیگ کی تہمینہ دولتانہ 10 لاکھ 57 ہزار روپے کی نادہندہ جبکہ حامد سعید کاظمی کے ذمے 31ہزار 500 روپے واجب الادا ہیں۔ راجا راشد حفیظ 74 لاکھ روپے، پی ٹی آئی کے سمیع حسن گیلانی 69 لاکھ 46 ہزار روپے، این اے 175 سے غلام رسول کوریجہ 42 ہزار روپے کے نادہندہ ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق آئین کے تحت یوٹیلیٹی بلز کا 10 ہزار روپے سے زائد کا نادہندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ادھرپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈنے عام انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے نادہندہ امیدواروں کی فہرست بھی جاری کر دی۔پی ٹی سی ایل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے امیدواروں کی بھیجی گئی فہرست کی جانچ پڑتال کے بعد اسکروٹنی رپورٹ واپس ای سی پی کو بھجوا دی۔رپورٹ کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے ایک ہزار 514 امیدوار پی ٹی سی ایل کے ڈیفالٹر ہیں۔ سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی بھی پی ٹی سی ایل کے نادہندگان میں شامل ہیں جن پر ایک ہزار 155 روپے واجب الادا ہیں۔پی ٹی سی ایل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارمراد سعید بھی پی ٹی سی ایل کے نادہندہ ہیں جن پر 14 ہزار روپے واجب الادا ہیں۔نادہندگان کی فہرست میں فیصل کریم، سید ظفر علی شاہ، حنیف عباسی، علیم خان اور منظور وٹو کے علاوہ سمیعہ راحیل قاضی کے نام بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فیصل کریم 21 ہزار، منظور وٹو 6 ہزار، سید ظفر علی شاہ 18 ہزار، رانا مشہود 4 ہزار روپے کے نا دہندہ ہیں۔پی پی پی کے عبدالقادر گیلانی، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بلال یاسین اور جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ کے علاوہ نرگس فیض ملک بھی پی ٹی سی ایل کے نا دہندہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کی امیدوار عظمی بخاری 1204 روپے، معین وٹو 1996 روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔اسلام آباد سے انتخابات میں حصہ لینے والے زبیر فاروق 10 ہزار 623 روپے، جماعت اسلامی کے فرید پراچہ ایک ہزار 178 روپے، پی پی پی کے ضیا اللہ آفریدی ایک ہزار 836 اور پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے چوہدری ظہیر الدین 3 ہزار 507 روپے کے نادہندہ ہیں۔پی ٹی سی ایل کے ڈیفالٹرز میں شامل انعام اللہ نیازی پر ایک ہزار 137 روپے واجب الادا ہیں، رانا تنویر ایک ہزار 235، رانا افضال 8 ہزار 914 روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔ گلوکار جواد احمد بھی پی ٹی سی ایل کے نادہندگان میں شامل ہیں جن پر 2 ہزار279 روپے واجب الادا ہیں۔جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی سمیحہ راحیل قاضی ایک ہزار 315 روپے، پی ٹی آئی کی یاسمین راشد 8 ہزار، منزہ حسن 3 ہزار 710 اور راجا مطلوب مہدی 31 ہزار 449 روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔اعجاز چوہدری 33 ہزار 251 روپے، مخدوم سمیع الحسن گیلانی 19 ہزار 692روپے اور این اے 53 سے امیدوار ساجد عباسی 6 ہزار 149 روپے کے نادہندہ ہیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی سی ایل نے 3 ماہ سے 5 سال کے دوران بل ادا نہ کرنے والوں کو ڈیفالٹر قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی اسکروٹنی کے لیے آئن لائن ڈیسک قائم کررکھی ہے جس میں تمام امیدواروں کے کوائف قومی احتساب بیورو(نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو ، اسٹیٹ بینک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کو اسکروٹنی کے لیے بھجوائے جاتے ہیں۔متعلقہ محکموں کی جانب سے اسکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تفصیلات مذکورہ ڈیسک کو واپس بھجوائی جاتی ہیں جسے الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو بھجوا دیا جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں