جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ملک بھر میں بڑھتی لوڈشیڈنگ، نگراں وزیر اعظم بھی ایکشن میں آ گئے ،ہنگامی اجلاس طلب،آنیوالی حکومت کی بڑی مشکل حل کردی

datetime 5  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے وزارت پاور کو بجلی کے شعبے کی پائیداریت ،مجموعی نظام کو موثربنانے اور نقصان کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعظم نے یہ ہدایت منگل کو وزیراعظم آفس میں پاورسیکٹر سے متعلق ایک بریفنگ کے دوران کہی ۔ بریفنگ میں سیکرٹری پاورڈویژن ، منیجنگ ڈائریکٹر پیپکو، ایم ڈی این ٹی ڈی سی اوردیگر سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سیکرٹری پاورڈویژن نے وزیراعظم کو ملک میں بجلی کے شعبے کی مجموعی حالت زار بشمول بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو موجودہ اور مستقبل قریب میں بجلی کی ممکنہ طلب بارے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 2013 میں ملک میں بجلی کی پیداواری استعداد 18753میگاواٹ تھی، اس وقت ملک میں بجلی کی پیداواری استعداد 28 ہزار704 میگاواٹ ہے۔ وزیراعظم کوبتایا گیاکہ موسمی صورتحال اوراس کے نتیجے میں پانی کی فراہمی میں کمی کے باعث مئی 2018 میں پانی سے 3090 میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ مئی 2015 میں پانی سے بجلی کی پیداوار 6333 میگاواٹ تھی۔ وزیراعظم کوبتایا گیا کہ ماہ رمضان المبارک کے حوالے سے وفاقی کابینہ نے جس لوڈمینجمنٹ پلان کی منظوری دی تھی اس پرسختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں انتظامی اورتکنیکی مسائل جو سسٹم کے نقصانات اوربجلی چوری پر منتج ہورہے ہیں، کاجائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے مختلف ڈسکوز میں بھاری نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارت پاور کو ان نقصانات میں کمی کیلئے فوری طورپراقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر سے منسلک انفورسمنٹ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے انتظامی تعاون کے حصول کیلئے کام کریگی ۔وزیراعظم نے کہاکہ اس ضمن میں ایک جامع منصوبہ تیارکرنا چاہئے تاکہ آنیوالی حکومت کو پاورسیکٹرکی کارگردگی اورپائیداریت میں بہتری لانے میں آسانی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…