اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں؟ اب کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو بڑا فائدہ پہنچے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی محمد مالک نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حیرت انگیز انکشافات کر دیے، نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں اور نئے کاغذات نامزدگی میں کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو فیور دی گئی، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ فارم میں سے انیس چیزیں نکال دی گئیں،

انہوں نے کہا کہ پرانے فارم میں ایک شق ہوتی تھی جس میں ڈیکلریشن دینا ہوتا تھا، اگر میں نے، میرے خاندان نے بیس لاکھ سے زیادہ کا قرضہ لیا ہوا ہے یا ان پیڈ ہے یا معاف کرایا ہوا ہے تو وہ حلفیہ دینا پڑتا تھا۔ یہ ہٹا ہی دیا گیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ میں چھوٹی چھوٹی شقیں بتاؤں گا کہ آخر یہ جھگڑا ہے کیا اور ڈرایا کیوں جا رہا ہے کہ فارم کو مت چھیڑیں ورنہ الیکشن لیٹ ہو جائیں گے، ایک تھا ڈیکلریشن اینڈ آؤٹ سٹینڈنگ لونز فرام بینک اپنے نام یا اپنے گھر والوں کے نام پر، اسی میں یہ تھا کہ بیس لاکھ سے زیادہ قرض لے کر کھایا ہوا تو نہیں۔ ایک ڈیکلریشن ہوتا تھا کہ کیا آپ نے کوئی یوٹیلٹی بل (بجلی، گیس وغیرہ) کوئی ڈیفالٹ تو نہیں کیا ہوا، ہم ڈیفالٹ ہوں تو ہماری بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور گیس کا کنکشن ختم کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ ہمارے نمائندے بننا چاہتے ہیں وہ یہ بتانا بھی نہیں چاہتے کہ وہ ڈیفالٹ میں ہیں کہ نہیں ہیں۔ ایک ڈیکلریشن یہ تھا کہ کون سی کمپنی میں آپ کے کتنے شیئر ہیں، آپ کے بیوی بچوں کے کتنے شیئر ہیں، ایک اور ڈیکلریشن تھا کہ آپ پر کون سے کیسز ہیں، کتنے کرائم کے مقدمات ہیں اس ڈیکلریشن کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو پتہ چلے کہ ہمارے امیدوار پر کتنے کیسز تھے یا ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سے ٹیکس نمبر مانگتے اور انکم ٹیکس آپ نے پچھلے تین سال میں کتنا دیا اور انکم پوری بتانی ہوتی تھی اور آمدنی کا ذریعہ بتانا پڑتا تھا، میں نے کمایا کہاں سے، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ یہ جتنے مقدمے چل رہے ہیں

یہ اسی وجہ سے چل رہے ہیں۔  ایک ڈیکلریشن تھی کہ آپ نے باہر کتنا سفر کیا اور خرچا کتنا ہوا، یہ آپ کی سکروٹنی تھی، اگر آپ کہتے ہیں کہ میں انکم ٹیکس نہیں دیتا کیونکہ میں کاشتکار ہوں، میں زمیندار ہوں تو پھر آپ کو زرعی انکم ٹیکس کے بارے میں آپ کو بتانا پڑتا تھا۔ اور کل اثاثہ جات اور ذاتی خرچوں کے بارے میں بتانا پڑتا تھا اور ایک یہ کہ میں دوہری نیشنلٹی ہولڈر ہوں یا نہیں، یہ سب فارم سے نکال دیے گئے تھے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…