جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ریاستی حکام بے لگام نہیں، فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کیا، پاکستان میں نوٹسز سے متعلق چیف جسٹس کا چین کی شنگھائی یونیورسٹی میں ایسا خطاب کہ شرکا داد دئیے بغیر نہ رہ سکے

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

شنگھائی (آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں،یہ طے ہوچکا ہے کہ ریاستی حکام کو حاصل اختیارات بے لگام نہیں،پاکستان کے ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں، سپریم کورٹ محروم طبقے کو فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔چین کی شنگھائی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس

نے کہا کہ ریاست کے تمام ستون ملکی سالمیت، سیکورٹی اور وقار اور لوگوں کی فلاح کے لیے مل جل کر کام کریں، ریاستی حکام کو اپنے اختیارات انصاف کے اصولوں، برابری، شفاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنے چاہئیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں، یہ طے ہوچکا ہے کہ ریاستی حکام کو حاصل اختیارات بے لگام نہیں، پاکستان کی عدلیہ کو ایگزیکٹو کے اقدامات پر نظر ثانی کا اختیار ہے، اسی لیے عدلیہ ایگزیکٹو کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس مہیا کرتی ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ محروم طبقے کو فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور خود کو بنیادی حقوق کے تحفظ کا نگراں ثابت کیا ہے، بنیادی حقوق کے مقدمات انصاف کی فراہمی اور انصاف تک رسائی کا موثر آلہ ہے، عوامی مفاد کے مقدمات بنیادی حقوق کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں میں قانون اور میڈیکل کی تعلیم اور ماحولیاتی معاملات پر از خود نوٹسز لیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…