جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

امریکہ سے 5ارب لینے والا پاکستان کا سب سے بڑا غدار فوجی افسر آج کل پرویز مشرف کیساتھ کیا کاروبار کررہا ہے ؟سینئر صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایس آئی کے سابق کرنل اقبال نے پانچ ارب روپے لے کر امریکی کمانڈوز کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ تک پہنچایا ، وہ خود امریکہ میں مقیم ہے جبکہ اس کا صاحبزادہ میجر شہریار سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ مل کر دبئی میں پرائیویٹ ہسپتال چلا رہا ہے۔ سینئر صحافی اسد کھرل کا دعویٰ ۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درانی نے را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر ایک کتاب

لکھی ہے جس میں انتہائی حساس موضوعات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ اسی کتاب میں ایک جگہ پر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد آپریشن میں ہلاکت میں  شکیل آفریدی اور سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔کتاب میں جنرل(ر) اسد درانی نے ایبٹ آباد آپریشن میں آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر کے کردار کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ شخص پاکستان میں نہیں رہتا ۔ جنرل(ر) اسد درانی نے یہ کہہ کر اس افسر کا نام لینے سے انکار کردیا  میں اسے بلاوجہ مشہور نہیں کرنا چاہتا۔جنرل(ر) اسد درانی کی جانب سے ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کے فوجی افسر کا تذکرہ کیے جانے کے بعد سینئر صحافی اسد کھرل نے ایک ٹویٹ میں اس شخص کی ساری تفصیلات شیئر کر دیں تاہم انہوں نے بعد میں اپنی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔ اسد کھرل نے اپنی ٹویٹ میں کہاآئی ایس آئی کے کرنل اقبال نے 50 ملین ڈالرز (تقریباً 5 ارب روپے پاکستانی) لے کر امریکی میرینز کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ تک پہنچایا اور اب یہ شخص امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں رہائش پذیر ہے۔ یہ شخص اس میجر شہریار اقبال کا والد ہے جو پرویز مشرف کا سٹاف آفیسر اور بزنس پارٹنر ہے۔ یہ دونوں مل کر دبئی میں ایک پرائیویٹ ہسپتال چلا

رہے ہیں جس میں بھارتی ڈاکٹر شرما بھی شراکت دار ہے۔واضح رہے کہ پاک فوج کی جانب سے اسد درانی کو پرسوں جی ایچ کیو طلب کیا گیا ہے جہاں ان سے کتاب میں قلمبند انکشافات کے بارے میں وضاحت طلب کی جائیگی۔را کے سابق سربراہ ایس کے دلت کیساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی کتاب پر پاکستان کے اندر سیاسیتدانوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…