جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عشق الٰہی اور اسلام سےمحبت و وفا کی عظیم داستان رقم کرنیوالا اب نہیں رہا 18سال سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور ایوب ابو ھدوان روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملے، مسجد کی حفاظت میں انہیں کن کن صیہونی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا؟بیٹے کی قید بھی پائوں کی زنجیر نہ بن سکی

datetime 24  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسجد اقصیٰ کی 18سال سے حفاظت پر مامور ایوب ابو ھدوان انتقال کر گئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے ایوب ابو ھدوان جو کہ 18سال سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور تھے روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ دوران ڈیوٹی ایوب ابو ھدوان کو دل میں تکلیف کے باعث طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا

جہاں ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی ہے۔ ایوب ابو ھدوان روزے کی حالت مین تھے اور گزشتہ 18سال سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ عارضہ قلب کے نتیجے میں روزے کی حالت انتقال کرنے والے ھدوان 23 سالہ زیاد ایوب محمود ابو ھوان کے والد ہیں۔ زیاد کو 3 دسمبر 2015 کو اسرائیلی فوج کو حراست میں لیا تھا۔ وہ اس وقت ھداریم جیل میں قید ہیں۔ ان پر اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)سے وابستگی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔خیال رہے کہ ابو ھدوان مسجدا قصی کے دیرینہ محافظ تھے۔ اسرائیلی فوج نے انہیں قبلہ اول سے دور کرنے کے لیے کئی بار مسجد سے بے دخل کیا مگر صہیونی ریاست کے انتقامی ہتھکنڈے انہیں قبلہ اول سے دور نہیں کر سکے۔ وہ مسلسل 18 سال سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ایوب ابو ھدوان کی ناگہانی موت نے اہلیان القدس ، فلسطینیوں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ایوب ابو ھدوان روزے کی حالت مین تھے اور گزشتہ 18سال سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ عارضہ قلب کے نتیجے میں روزے کی حالت انتقال کرنے والے ھدوان 23 سالہ زیاد ایوب محمود ابو ھوان کے والد ہیں۔ زیاد کو 3 دسمبر 2015 کو اسرائیلی فوج کو حراست میں لیا تھا۔ وہ اس وقت ھداریم جیل میں قید ہیں۔ ان پر اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)سے وابستگی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔خیال رہے کہ ابو ھدوان مسجدا قصی کے دیرینہ محافظ تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…