جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چینی چیف جسٹس بھی اپنےپاکستانی ہم منصب جسٹس ثاقب نثار کے بڑےمداح نکلے، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال کیساتھ جب چیف جسٹس چین پہنچے تو ان کا کیسے استقبال کیا گیا، جسٹس ثاقب نثار نے سی پیک سے متعلق اہم اعلان کر دیا

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

بیجنگ(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین مابین قانونی تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش ہے،پاکستانی عدلیہ سی پیک کی بھرپور حمایت کرتی ہے، سی پیک منصوبوں پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کے لیے تجاری تنازعات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ دنوں میں تمام وفاقی اداروں اور وزرا کے ساتھ سی پیک پر خصوصی اجلاس طلب کیا۔

جبکہ چینی سپریم پیپلز کورٹ کے صدر زو کیانگ نے کہا پاک چین تعلقات کو دونوں ممالک کی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل ہے، دوطرفہ تعاون کے باعث دونوں ممالک اسٹراٹیجک پارٹنرشپ میں بدل چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے چینی سپریم پیپلز کورٹ کے صدر زو کیانگ سے بیجنگ میں ملاقات کی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے گزشتہ برس دونوں ممالک کے مابین جوڈیشل انسٹیٹیوشن پرعملدرآمد کے لیے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط پر چینی ہم منصب کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں مملک کے مابین قانونی تعاون بڑھانے کی بہت گنجائش ہے اور آربیٹریشن، جوڈیشل ٹریننگ، آٹومیشن آف جوڈیشل سسٹم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے پاک چین اقتصادی راہداری کو ون بیلٹ ون روڈ کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا اور پاکستانی عدلیہ سی پیک کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کے لیے تجاری تنازعات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ دنوں میں تمام وفاقی اداروں اور وزرا کے ساتھ سی پیک پر خصوصی اجلاس طلب کیا۔اس حوالے سے چیف جسٹس نے چینی سپریم کورٹ کے صدر کو بتایا کہ ماتحت عدالتوں کو سی پیک منصوبوں سے متعلق تنازعات پر فریق کی بات سننے بغیر حکم امتناعی جاری نہ کیا جائے۔

اس موقع پر چین کی سپریم کورٹ کے صدر زو کیانگ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے کہاکہ پاک چین تعلقات کو دونوں ممالک کی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور دوطرفہ تعاون کے باعث دونوں ممالک اسٹراٹیجک پارٹنرشپ میں بدل چکے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے چینی ہم منصب کو پاکستان میں آربیٹریشن پر جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ہمراہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال سمیت دیگر سینئر جج تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…