جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

افغان وزارت دفاع اور گورنر قندوز کی ڈھٹائی، افغان ائیر فورس کی بمباری میں بڑی تعداد میں حافظ قرآن بچوں کے شہید ہونے کے باوجود کیا کہتے رہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

قندوز (نیوز ڈیسک) افغان صوبے قندوز کے ضلع دشت ارچی میں مسجد و مدرسہ دارالعلوم الہاشمیہ العمریہ پر افغان ائیرفورس کی وحشیانہ بمباری میں شہید حافظ قرآن میں سے بیشتر کے ہاتھوں میں شہادت کے بعد بھی قرآن پاک کے نسخے موجود تھے۔قرآن پاک حفظ کرنے کی خوشی میں دیے جانے والے تحائف ننھے شہدا کی نعشوں کے درمیان بکھرے ہوئے پائے گئے۔

یہ مناظر دیکھ کر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچنے والے مقامی افراد کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ اس درد ناک سانحے پر مقامی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔دوسری طرف افغان وزارت دفاع کے حکام اور گورنر قندوز عبدالجبار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وحشیانہ کارروائی کو طالبان جنگجوؤں ہی کے خلاف قرار دینے پر مصر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد و مدرسہ میں حفاظ کرام کی دستار بندی کی تقریب نہیں ہو رہی تھی بلکہ وہاں طالبان جنگجوؤں کی کوئٹہ شوریٰ کا ایک اہم عسکری اجتماع منعقد کیا جا رہا تھا تاہم دشت ارچی کے علمائے کرام اور عوام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا۔ سانحے کے بعد جاری کی جانے والی تصاویر میں واضح طور پر علمائے دین اور ننھے حفاظ کی بڑی تعداد کو سفید لباس میں ملبوس پھولوں کے ہار پہنے مدرسے سے متصل صحن میں بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گورنر عبدالجبار نے قندوز ہسپتال کا دورہ کرکے تمام زخمیوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ اگر انہوں نے علاج کرانا ہے تو اپنا بیان تبدیل کرنا ہوگا اور یہ کہنا پڑے گا کہ مدرسے میں طالبان کمانڈرز اور جنگجو بھی موجود تھے۔ اگر ان کا بیان حکومت کے خلاف ہوا تو علاج روک دیا جائے گا۔ اس حوالے سے قندوز میں موجود فضل خان نامی نوجوان نے ٹویٹر پر کہا کہ دارالعلوم الہاشمیہ العمریہ میں 300 کے قریب شہادتیں ہوئی ہیں لیکن افغان حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…