خانیوال (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی اہلکاروں پر چینی انجینئرز کا تشدد اور چینی انجینئرز کے دھرنے نے پورا ضلع بند کر دیا، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور سے فیصل آباد جانے والی ایم فور موٹروے کی تعمیر کرنے والے چینی انجینئرز کا سیکیورٹی پولیس کے ساتھ تنازع شدت اختیار کرگیا، چینی انجینئرز نے سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کیا جبکہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد سڑک بھی بلاک کر دی۔
خانیوال میں موٹر وے ایم 4 کی تعمیر کا عمل بڑی تیزی سے جاری ہے تاہم گزشتہ شب چینی انجینئرز پولیس سیکیورٹی کے بغیر اپنے نورپور کیمپ سے باہر جانا چاہتے تھے۔ ان چینی انجینئرز کو نورپور کیمپ کے سیکیورٹی انچارج نے باہر جانے سے منع کر دیا جس کے بعد چینی انجینئرز اور چینی ورکرز نے نورپور میں موجود پولیس کیمپ کی گزشتہ شب بجلی کاٹ دی۔ آج صبح چینی انجینئرز اور ورکرز نے احتجاجاً ضلع خانیوال میں ایم 4 کے تمام منصوبوں پر نہ صرف کام بند کردیا بلکہ کبیر والا، شام کوٹ، نورپور، مخدوم پور روڈ سمیت اہم شاہراہوں کو بھی ہیوی مشنیری کے ذریعے بلاک کر دیا، جس کے باعث پورا ضلع بند ہوگیا۔ چینی مزدوروں کے احتجاج کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورت حال کو قابو کرنے کے لیے ڈی پی او رضوان عمر گوندل نے چینی انجینئرز کے ساتھ مذاکرات کیے جو کئی گھنٹے تک جاری رہے اور ناکام ہو گئے۔ ٹی وی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد چینی مزدوروں نے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز کو احتجاج کرنے والے چینی انجینئرز نے لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار انہیں کام کرنے سے روک رہے ہیں اور ان پر حملہ بھی کر دیا۔ نجی ٹی وی چینل کو موصول ہونے والی ویڈیو کے مطابق چینی مزدور سیکیورٹی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں،
بعد میں چینی انجینئرز پولیس وین پر چڑھ کر غیر اخلاقی حرکت کرنے لگے جبکہ کمیپ میں انہوں نے پولیس سیکیورٹی اہلکار کو احتجاج کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ چینی کمپنی کی جانب سے دی گئی درخواست میں موقف سامنے آیا ہے کہ چینی مزدوروں نے جب کمیپ سے باہر جانے کی اجازت طلب کی تو انھیں پنجاب پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکاروں نے منع کردیا۔ چینی کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ ایس پی یو کے اہکاروں نے چینی مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس اہلکاروں نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اس کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔



















































