جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

غریب ہوں ،وکیل کی خدمات حاصل نہیں کرسکتا ،سزا میں نرمی برتی جائے ،زینب کے قاتل عمران کی اپیل

datetime 5  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے زینب کے قاتل عمران علی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت، عدالت نے مجرم کاعدالتی ریکارڈ اورجیل سپرٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالتی سماعت کے موقع پر زینب کے والد حاجی امین اپنے وکیل اشتیاق چوہدری کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، ننھی زینب کے قاتل مجرم عمران نے سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کے توسط سے جیل اپیل دائر کی ہے،

اپیل کے ہمراہ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی مصدقہ کاپی بھی منسلک ہے، مجرم عمران نے تین صفحات پر مشتمل جیل اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ دوران ٹرائل اس نے عدالت کا قیمتی وقت بچانے کیلئے عدالت کے سامنے اقرار جرم کیا، مجرم نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اقرار جرم کرنے والے مجرموں کے ساتھ عدالتیں نرم رویہ اختیار کرتی ہیں، مجرم نے اپیل میں کہا ہے کہ اقرار جرم کر لینے کے باوجود عدالت نے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا اور اسے سزائے موت اور دیگر سزاوں کا حکم سنا دیا،اپیل میں کہا گیا ہے کہ وہ غربت کے باعث وکیل کی خدمات حاصل نہیں کر سکتا لہٰذا عدالت عالیہ اس کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے سزا میں نرمی فرمائے،جس پر لاہور ہائیکورٹ نے مجرم کاعدالتی ریکارڈ اورجیل سپرٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔ انسداد دہشت گردی لاہور کی خصوصی عدالت نے مجرم عمران کو زینب قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی تھی،عدالت نے مجرم عمران کو 4 مرتبہ سزائے موت، عمر قید، 7 سال قید اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…