جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

شہید سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید کے جسد خاکی کیساتھ آخری وقت میں کیا سلوک کیا گیا،جان کر آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو پروٹوکول دینے والی لاہور پولیس نے شہید کو نظر انداز کر دیا، ٹریفک وارڈنز کی طرف سے روڈ کلیئر نہ کرایا جاسکا، شہید سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید کا جسد خاکی لے جانے والا قافلہ ٹریفک میں پھنسا رہا۔تفصیلات کے مطابق شہید سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید کے جسد خاکی کو پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے جوہرٹاؤن سے ایوب سٹیڈیم پہنچایا۔ لاہور پولیس کی جانب سے بے

حسی کا مظاہرہ کیا گیا، ٹریفک وارڈنز روڈ کلیئر نہ کرواسکے ،شہید کا جسد خاکی مختلف مقامات پر ٹریفک میں پھنسا رہا۔ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو پروٹوکول دینے والی پولیس نے شہید کو نظر انداز کر دیا۔سی ٹی او کی جانب سے شہید کیلئے کوئی پروٹوکول لگایا ہی نہیں گیا۔ شہید عبدالمعید نے ملک و قوم کے لیے ایسی عظیم قربانی دی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ گزشتہ روزشمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعیدکو پورے فوجی اعزازات کے ساتھ کیولری گراؤنڈ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ،لاہور کے ایوب اسٹیڈیم میں شہید عبدالمعید کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں شہید کے لواحقین سمیت کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، سی سی پی او لاہور، دیگر عسکری حکام اور حکومتی ارکان نے شرکت کی۔ جسکے بعد شہید کو پورے فوجی اعزازات کے ساتھ کیولری گراؤنڈ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل شہید کے آبائی علاقے بورے والا میں ان کی نماز   جنازہ ادا کی گئی تھی جس کے بعد جسد خاکی کو ایمبولینس کے ذریعے لاہور لایا گیا۔ 21 سالہ سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید نے حال ہی میں پی ایم اے کورس پاس کیا تھا اور گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے

حملے میں شہید ہوئے۔ دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے دوسرے جوان سپاہی بشارت کا تعلق گلگت کے گاؤں دینور سے ہے اور ان کی عمر بھی 21 سال ہی تھی۔دریں اثنا عبدالمعید کے والد کا کہنا تھا کہ وہ میرا بیٹا ہی نہیں دوست بھی تھا۔جس طرح اس نے اپنی جان وطن پر قربان کردی اس پر مجھے فخر ہے ۔میری جب بھی اس سے بات ہوتی تو ایک ہی سوال پوچھتا  کہ سب نارمل ہے ،جس پر عبدالمعید کہتا جی یہاں سب نارمل ہے ۔عبدالمعید کے تین بھائی اور ایک بہن تھی وہ سب سے بڑے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ان کا چھوٹا بیٹا بھی فوج میں جانے کا خواہشمند ہے ۔وطن عزیز پر اگر سارے بیٹے بھی قربان کرنا پڑے تو اس کیلئے بھی تیار ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…