اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم ٗاورنج لائن ٹرین منصوبے پر تعمیرات کا کام جاری رکھا جائے ،سپریم کورٹ کا حکم

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس کی تعمیر جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق 17 اپریل کو پنجاب حکومت کی اپیل پر کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان ٗ جسٹس عظمت سعید شیخ ٗجسٹس مقبول باقر، اجسٹس عجازالاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ فیصلے کے مطابق حکومت پنجاب کو حکم دیا گیا کہ وہ لاہور میٹرو ٹرین منصوبے کو جاری رکھیں اور اس منصوبے کو اپنے مقررہ وقت پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کو بھی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 30 دن کے اندر دو کمیٹیاں قائم کی جائیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک کمیٹی میں پنجاب یونیورسٹی کے جیولوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کو سربراہ بنانے کا حکم دیا گیا جس کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان کے نامزد کردہ ریٹائرڈ جج کو بھی اس کمیٹی کا حصہ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے۔فیصلے کے مطابق دوسری کمیٹی تکنیکی پہلو اور فنڈنگ کے حوالے سے قائم کی جائے گی جسے 13 کروڑ روپے کے فنڈ جاری کرنے کا بھی حکم دیا گیا تاکہ اس منصوبے کے ذریعے تاریخی مقامات کو ہونے والے نقصانات کو فوری طور پر تزئین و آرائش کرتے ہوئے اپنی اصل حالت میں بحال کیا جاسکے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے 31شرائط کے ساتھ پنجاب حکومت کی درخواست منظورکی ۔جسٹس مقبول باقر نے اختلافی نوٹ لکھا۔خیال رہے کہ یہ بینچ پنجاب حکومت، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم ٹی اے) کی جانب سے دائر کی

گئی ایک پٹیشن کی سماعت کررہا تھا، جس میں لاہور ہائی کورٹ کے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں متاثر ہونے والے تاریخی مقامات کے حوالے سے دیئے گئے ایک فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ معمار اور سماجی رضاکار کامل خان ممتاز کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن پر دیا گیا تھا۔ان مقامات میں شالیمار گارڈن، گلابی باغ گیٹ وے، چوبرجی، زیب انساء کا مزار، لکشمی، جنرل پوسٹ آفس، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری، سینٹ اینڈریوز نولکھا چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مزار شامل ہے۔

میٹرو ٹرین کوریڈور کا یہ منصوبہ 27.1 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 25.4 کلومیٹر یو-شیپ کے پل، 1.72 کلومیٹر کے زیر زمین سیکشن، 26 اسٹیشنز اور ان کے کھڑا کرنے کا مقام شامل ہے۔یاد رہے کہ اس منصوبے کے مخالفین نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس منصوبے سے قومی اور تاریخی مقامات کو خطرات لاحق ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…