جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے

datetime 6  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ تمام حدیں کراس کر گیا، آج کسی بھی وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر کے باقاعدہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں،حکم نامے کا ڈرافٹ تیار،عالم اسلام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، فلسطین سمیت اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا شدید ردعمل،دنیا کے دیگر

مسلمان ممالک کا بھی تشویش کا اظہار، مسلمان حکمرانوں کے ٹرمپ سے رابطے، اقدام انتہائی خطرناک جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا، مسلم حکمرانوں نے امریکی صدر کو خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ممکنہ طور پر کسی بھی وقت مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتےہوئے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر سکتے ہیں ، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں موجود یہودی اور اسرائیل کے حمایتی انتہا پسند گروہ دارالحکومت واشنگٹن کے باہر امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو زیب تن کئے موجود ہیں تاکہ امریکی صدر کے حکم نامے کا اعلان ہوتے ہی جشن منا سکیں جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو جمع ہونے کیلئے اکسایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے امریکی صدر کے حکم نامے کا ڈرافٹ پہلے سے تیار کر لیا گیا ہے ۔ امریکہ کے اس ممکنہ اقدام پر فلسطین، اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان سمیت کئی مسلم ممالک کے حکمرانوں نے امریکی صدر سے اس حوالے سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے انہیں اس اقدام سے باز رہنے کا کہا ہے۔ اعلی ٰ امریکی عہدیداروںکے مطابق ٹرمپ آج یرو شلم کو اسرائیل

کا دا رلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے مگر امریکی سفارتخانے کی منتقلی میں 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے۔ حماس کی جانب سے ممکنہ امریکی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ حدود پار کرنے سے باز رہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا ہے جس میں ممکنہ امریکی اقدام کی صورت میں

امریکہ کو خطرناک نتائج مرتب ہونے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ عراق، اردن ، سعودی عرب کے بعد ترکی کی جانب سے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیا گیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح طور پر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔مسلم ممالک کے

بعد یورپی ممالک نے بھی اس ممکنہ امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دوریاستی فارمولے کو نقصان پہنچے گا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر پارلیمان میں ممکنہ مواخذے کی وجہ سے جلد سے جلد اس حکم نامے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جس کا ڈرافٹ ایک اطلاع کے مطابق تیار کروالیا گیا ہے جس پر دستخط کرتے ہی امریکا کی جانب سے

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا عمل مکمل ہوجائے گا-واضح رہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی یہودی کارپوریشنز اور کمپنیاں اسرائیلی دارالحکومت کے یروشلم منتقل ہونے پر نیویارک کی مشہور زمانہ وال سٹریٹ کی بھی نئے دارالحکومت منتقلی کی خواہاں ہیں جس سے دنیا کا اقتصادی نظام بھی یروشلم منتقل ہو جائے گا

جس سے امریکی معیشت دبائو میں آسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا کے سنجیدہ حلقے جلد سے جلد صدر ٹرمپ کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے ممکنہ حکم نامے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کو بھانپتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارتی عملے

اور مشنز کو سرگرمیاں محدود کرنے اور غیر ضروری سفر سے بھی روک دیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…