اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ پبلک کر دی گئی، پولیس نے گولیاں کس کے حکم پر چلائیں، رپورٹ میں کس کا نام لکھا ہے، سب کچھ سامنے آگیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ جاری کردی۔ڈھائی سال تک سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ میں ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا رہا، اس رپورٹ میں کوئی ایک شق نہیں ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دے ، رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے، قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہے

اس لیے یہ رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی اس رپورٹ کی اشاعت سے مقدمے کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، رانا ثنا کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ جاری کر دی ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا نے رپورٹ پبلک کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ عوامی تحریک کے کارکنوں کو پولیس پر حملہ آور ہونے کے لیے کس نے کہا؟ وہ کون تھا جو انہیں اکساتا رہا؟ پوری رات شہادت کا کہتا رہا؟ ایسی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا ذکر اس رپورٹ میں کیوں نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، عوامی تحریک کی جانب سے کوئی شہادت جمع نہیں کرائی گئی، اس رپورٹ میں جن شواہد پر انحصار کیا گیا وہ شواہد درست نہیں اسی لیے وزیراعلیٰ سے کہا تھا کہ اگر رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدگیاں پیدا کرے گا، اس رپورٹ کی اشاعت کو لارجر بینچ کے فیصلے سے منسلک کیا جائے۔وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کوئی ایک شق نہیں ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں دونوں اطراف سے فائرنگ کا

ذکر ہے تاہم خفیہ اداروں کی وہ رپورٹس کمیشن میں شامل نہیں کی گئیں۔ رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے، قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہے اس لیے یہ رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی اس رپورٹ کی اشاعت سے مقدمے کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…