اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

نہتے اور بیگناہ افرادکےقتل کا ذمہ دار کون؟عدالت نے سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ شائع کا حکم دیدیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومتی اپیلیں مسترد، لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ شائع کرنے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ شائع کرنے کے حکم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ نے حکومتی اپیلیں مسترد کر دی ہیں اور سانحہ ماڈل ٹائون انکوائری رپورٹ شائع کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے سانحہ ماڈل ٹائون کے تمام متاثرین کو رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا

حکم دیا ہے۔وجسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے صوبائی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کرکے 24 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ 30 دنوں میں عام کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی نقول سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دی جائے جب کہ صوبائی حکومت فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ عام ہونے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ٹرائل پر کوئی اثر انداز نہیں ہوگا اور ٹرائل شفاف انداز میں چلایا جائے گا۔یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا، اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن نے انکوائری کی تھی تاہم اس انکوائری رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا تھا۔بعدازاں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو منظرعام پر لانے

کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس پر سماعت کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے رواں برس 21 ستمبر کو مذکورہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ جس کے بعد پنجاب حکومت نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے گذشتہ ماہ 24 نومبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…