اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

لال شہبازقلندر پر خود کش حملہ آور کی مدد کرنے کیلئے ایک موبائل اور 65ہزار روپے لئے،مبینہ سہولت کار نے زبان کھول دی

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)سیہون میں صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر خود کش حملے کے مبینہ سہولت کار نے زبان کھول دی۔ کس طرح معصوم شہریوں کو خون میں نہلانے کا گندا کھیل کھیلا گیا۔ملزم کا تحریری بیان سامنے آگیا۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش ساری منصوبہ بندی کے پیچھے تھی۔سیہون میں صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر خود کش حملے کے مبینہ سہولت کار نے زبان کھول دی۔ سہون شریف میں 83

زندگیوں کے چراغ گل کرنے والوں نے موت کا یہ گھناؤنا سودا صرف ایک موبائل فون اور 65 ہزار روپے میں کیا۔ دہشت گردوں کے سہولت کار نادر جکھرانی نے کراچی کی عدالت میں تحریری بیان دے کر اپنے کالے کرتوت بتا ڈالے۔ کہتا ہے کہ دہشت گردوں نے رابطے کے لیے تھریما موبائل ایپ استعمال گئی۔ کشمور سے تعلق رکھنے والے سہولت کار نے درگاہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سے متعلق بھی سب اگل دیا۔بیان کے مطابق کالعدم تنظیم نے مشن مکمل کرنے پر موبائل فون اور 65 ہزار روپے انعام دیا۔ 16 فروری کو اس نے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری، برار بروہی اور صفی اللہ سے مل کر خود کش حملہ کروایا اور ساری منصوبہ بندی ڈیرہ مراد جمالی میں کی گئی۔ خود کو بم سے اڑانے کا کام برار بروہی کو سونپا گیا۔سہولت کار دھماکے سے ایک روز پہلے خود کش بمبار کے ساتھ بس میں بیٹھ کر سیہون پہنچا، کمرہ کرائے پر لیا اور پھر ریکی کرنے کے بعد بزدلانہ حملہ کر دیا۔ سہولت کار کے مطابق اس کا ساتھی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مستونگ میں فوجی آپریشن میں مارا گیا۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ملزم صفی اللہ اس کے ساتھی فاروق بنگلزئی، اعجاز بنگلزئی اور تنویر افغانستان فرار ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…