اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

امریکہ نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کے بارے میں بڑا فیصلہ کرلیا،دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدیدغصے کی لہر دوڑ گئی،دنیابھرمیں آگ لگ جائے گی،امریکی ماہرین کی وارننگ‎

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکہ نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کے بارے میں بڑا فیصلہ کرلیا،دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدیدغصے کی لہر دوڑ گئی، تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو اگلے ہفتے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں،مبصرین کا کہنا ہے کہ

ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد مشرق وسطی کا بحران سنگین صورتحالاختیارکرسکتاہے،امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت دیگر نشریاتی اداروں نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باقاعدہ اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے، واضح رہے کہ اقوام متحدہ بھی بیت المقدس پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی بھی کسی طور پر بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،امریکہ کے اس اقدام کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آسکتاہے، یہ فیصلہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں سے ایک ہے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیاتھا کہ وہ صدر بننے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم مننتقل کرینگے، دوسری جانب امریکی خفیہ اداروں اور انٹیلی جنس اور فوجی حکام نے خبردار کیاہے کہ اس طرح کے اقدام سے تشدد کی نئی لہر آ سکتی ہے اور بہت زیادہ جانی نقصان بھی ہوسکتاہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غربِ اردن میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد اسرائیل نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ امریکہ نے اس ووٹ کی حمایت کی۔ جس کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں

کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی اور تل ابیب میں امریکی سفیر کو بھی طلب کر لیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی سفیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کرکے یہ یہ غیر معمولی قدم اٹھایا تھا، اس موقع پر اسرائیل نے اپنے قریبی حلیف امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے سلامتی کونسل میں ووٹ کو منظم کیا لیکن امریکہ نے اس موقع پر اس الزام کی تردید کی تھی۔ ماضی میں امریکہ نے ایسی قراردادوں کو ویٹو کر کے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ لیکن اس وقت کی اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی ترک کر کے اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا۔اسرائیلی وزیراعظم نے اس موقع پر کہا تھا کہ سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جبکہ امریکہ نے ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا، تاہم اس نے اس موقعے پر قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق بھی استعمال نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…