منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

کراچی سمیت ساحلی علاقے میں زلزلے و سونامی کا خطرہ

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن) کراچی سمیت سندھ وبلوچستان کا ساحلی علاقہ خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پرواقع ہے اور زلزلہ وسونامی کا خطرہ موجود ہے۔کراچی سمیت سندھ وبلوچستان کا ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے وسونامی کا خطرہ موجود ہے، ماضی میں 28 نومبر 1945 میں بحیرہ عرب کے شمال اور مکران کوسٹل میں خطرناک سونامی آنے سے 4ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ، اس سونامی کے اثرات

کراچی کے جزائر پر بھی پڑے تھے۔مختلف ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی بحیرہ عرب کے ساحل کے موڑ پر واقع اس لیے سونامی سے محفوظ ہے تاہم محکمہ موسمیات کے متعلقہ افسران کی آرا اس سے مختلف ہے جس کے تحت مکران سب ڈکشن پر آنے والے سونامی سے کراچی بھی لپیٹ میں آسکتا ہے۔دریں اثنا کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صوبائی ومقامی حکومتوں کی تیاریاں مکمل نہیں ہیں، متعلقہ سرکاری اداروں نے بڑی ناگہانی آفات زلزلہ ، سونامی، طوفان یا دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ تو پیشگی کوئی انتظام کیا ہے اور نہ ہی قدرتی آفات آنے کے بعد ریسکیو آپریشن کرنے کی اہلیت موجود ہے، سول ڈیفنس 20 سال سے غیرفعال، پی ڈی ایم اے بھی عملی طور پر امدادی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر ہے جبکہ بلدیہ عظمی کراچی بڑی ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے مکمل استطاعت نہیں رکھتی، تین اسنارکل اور33 آگ بجھانے والی گاڑیاں کئی برسوں سے خراب ہیں۔کراچی میں 85 فیصد سے زائد بلند عمارتوں کی تعمیرات میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے، کراچی میں زیادہ شدت کا زلزلہ، سونامی و دیگر بڑی ناگہانی آفات انتہائی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، ماضی میں محکمہ سول ڈیفنس کے تحت ہر یونین کمیٹی

میں ایک وارڈن اور 5رضاکار ہوتے تھے جومقامی سطح پرتمام نجی وسرکاری عمارات، اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی آبادی کی مکمل معلومات رکھتے تھے، علاقائی سطح پر سائرن سسٹم موجود ہوتا تھا جبکہ رضاکاروں کی اعلی نوعیت کی تربیت بھی کی جاتی تھی، 20سال سے یہ محکمہ غیرفعال ہے، مقامی سطح پر رضاکار موجود نہیں ہے جبکہ سول ڈیفنس کے حکام صنعتی سطح پر حفاظتی اقدامات کے معائنے کے بہانے لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔8

اکتوبر 2005 میں ملک میں آنے والے خطرناک زلزلے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ 2006 میں قائم کیا گیا، بعدازاں 18ترمیم کے تحت 2010 میں اختیارات صوبائی حکومت کو تفویض کردیے گئے، تقریبا 12سال گزرجانے کے باوجود یہ ادارہ ناگہانی آفات کے بعد امدادی سرگرمیاں کرنے کے قابل نہیں بنا ہے، اس وقت یہ ادارہ صرف متعلقہ سرکاری ونجی محکمہ میں رابطہ وآگاہی مہم، تربیت، ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان

اور وارننگ جاری کرنے کے فرائض انجام دے رہا ہے۔کراچی میں بلند عمارتوں کا جنگل قائم ہو چکا ہے ، 85فیصد سے زائد عمارات کی تعمیرات میں قوائد و ضوابط کی خلاف وزری کی گئی ہے جبکہ زلزلہ پروف عمارتوں کی تعمیرات کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، کراچی میں زلزلہ یا سونامی آنے کی صورت میں بڑی تباہی آنے کا امکان ہے۔بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ چھوٹی قدرتی یا غیر قدرتی آفات کی صورت میں امدادی

سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے جبکہ بڑی ناگہانی آفات سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے، متعلقہ محکمہ کے پاس اسوقت صرف 45فائر ٹینڈر ہیں جن میں صرف 12صحیح حالت میں ہیں جبکہ 33آگ بجھانے والی گاڑیاں خراب ہیں، چاراسنارکل موجود ہے، صرف ایک اسنارکل کام کررہی ہے تین اسنارکل کئی سالوں سے خراب پڑی ہیں۔بلدیہ عظمی کراچی کا اربن سرچ اینڈ ریسکیو اکیڈمی(یو ایس آر اے)بھی بڑی آفات آنے کی صورت میں پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کے لیے بڑی سطح پر کارروائی کرنے سے قاصر ہے، اس کے پاس چھوٹی مشینری ، 48تربیت یافتہ ملازمین ہیں جو امدادی سرگرمیوں میں کام کرتے ہیں تاہم ہیوی مشینری، بلڈوزر، ڈمپر لوڈر،کرینیں اور ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…