جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

شریف فیملی کیخلاف جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کا خواہشمند انعام الرحمان سحری کون ہے؟اس کے بین الاقوامی سطح پر وارنٹ گرفتاری کیوں جاری ہوئے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)شریف خاندان کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے دعویداراور اب پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کے خواہشمند ریلویز پولیس کا سابق ایس پی انعام الرحمان سحری نیب زدہ نکلا اور سابق صدر پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے بھی مستفید ہوا،

انٹرپول نے ملزم انعام الرحمان سحری کی گرفتاری کیلئے ریڈوارنٹ جاری کررکھے ہیں ،نیب نے سال2007میں انعام الرحمان سمیت پانچ ملزمان کی بیرون ملک سے گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا ،انعام الرحمان تاحال بیرون ملک روپوش ہے ۔ذرائع کے مطابق شریف فیملی کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے اور شواہد رکھنے کے دعویدار ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری جو جے آئی ٹی میں شریف خاندان کے خلاف بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہے وہ خود کرپشن میں ملوث رہا ہے اور نیب نے سال 2002میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انعام الرحمان سحری کے خلاف کرپشن کی انکوائری اور تحقیقات مکمل کر کے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس میں ان کے اثاثوں کی مالیت کو ان کی انکم سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا تھا اور ان پر خردبرد کے الزامات عائد کئے گئے تھے جس کے بعد انعام الرحمان سحری گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوااور بیرون ملک فرار ہوگیا تھا ، احتساب عدالت کی طرف سے ملزم کو اشتہاری قراردیا گیا تھا جس پر سال2007میں نیب نے ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا اور باضابطہ طور پر اس کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے تھے ۔ 4ستمبر2007کو نیب کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق انٹرپول نے نیب کی درخواست پر مجموعی طور پر پانچ ملزمان کی گرفتاری کیلئے انکے ریڈوارنٹ جاری کئے تھے،

ان ملزمان پر کرپشن ، فراڈ ، جعل سازی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا ان ملزمان میں ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری ، او جی ڈی سی ایل کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا،پاکستان ایگریکلچر اینڈ ریسرچ کونسل کے ڈاکٹر سی ایم انور خان ، پی آر سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مظفر نشاط اور پی آر سی کے اسسٹنٹ ٹیکنیکل آفیسر اسلم پرویز درانی شامل ہیں ۔

پی آر سی کے افسروں کا کونسل کیلئے مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت پر گاڑیاں خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے جبکہ او جی ڈی سی کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا قریشی نے ٹھیکوں کی نیلامی کیلئے قومی خزانے کو 112ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا ۔دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان ہونے والے قومیمفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے انعام الرحمان سحری بھی اسی طرح مستفید ہوا جس طرح سابق سیکرٹری خزانہ جاوید طلعت ، سابق سیکرٹری تجارت سلمان فاروقی ، سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رحمان اے ملک ،آڈیٹر سی ایم اے ابرار حسین جوکھر اورسی ڈی اے کے تین سابق ڈی سی چوہدری محمد اسلم ، محمد امین اور شوکت علی این آر او سے مستفید ہوئے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…