جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان نا اہلی کیس ٗ الیکشن کمیشن عدالت یا ٹربیونل نہیں، فنڈز کے حوالے سے اختیاررکھتا ہے،سمجھوتہ نہیں ہوگا ٗ سپریم کورٹ

datetime 13  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارنے عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ الیکشن کمیشن عدالت یا ٹربیونل نہیں اوراس کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ  کے 3 رکنی بینچ  نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فارن فنڈنگ پر دلائل تفصیل سے سن چکے ہیں لیکن ہم کچھ سوالات کے جواب جاننا چاہتے ہیں، کیا درست ہے کچھ فنڈز آئین کے آرٹیکل 6 کی شق (3) کے حوالے سے ممنوعہ ہیں جس پر عمران خان کے وکیل انور منصور نے کہا کہ کوئی فنڈزممنوعہ نہیں ٗانتخابی نشان لینے کیلئے تفصیلات دینا ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن تفصیلات جمع کرواتے وقت جانچ پڑتال کرسکتا ہے، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کے گوشوارے منظور کیے۔انورمنصورکے دلائل پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ آڈٹ رپورٹ منظور ہوگئی تو دوبارہ جائزہ نہیں لیا جاسکتاجس پر انور منصور نے کہا کہ اکاؤنٹس کی تفصیلات ہر سال جمع کرانا ہوتی ہیں اور اس کے پاس ہر سال جانچ پڑتال کا موقع ہوتا ہے تاہم الیکشن کمیشن دس سال بعد اکائونٹس نہیں کھول سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن پڑتال ازخود کر سکتا ہے یاکسی کی شکایت پر ٗکیا 184 تھری کے تحت ہم براہ راست کارروائی کرسکتے ہیں۔تحریک انصاف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستّی  نے دلائل شروع کئے، انہوں نے کہا پولیٹیکل پارٹی آرڈررضاکارانہ آڈٹ کو ڈیل کرتا ہے،پی ٹی آئی نے آج تک کسی گوشوارے میں فارن فنڈنگ کا ذکر نہیں کیا، پی ٹی آئی نے جان بوجھ کرفراڈ کیا اورحقائق چھپائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کون سی سیاسی جماعت تسلیم کرے گی کہ فنڈز ممنوعہ ذرائع سے آئے ٗکسی نے فنڈز کو ممنوعہ تسلیم کیا تو وہ قبضہ میں لے لیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ پرکارروائی کس کا اختیارہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ممنوعہ نکال کرکوئی فارن فنڈنگ تسلیم کی گئی، 2008 سے آج تک الیکشن کمیشن نے فنڈز کی تفصیلات طلب نہیں کیں۔ کیا الیکشن کمیشن کی زمہ داری نہیں کہ تفصیلات طلب کرے۔ابراہیم ستّی نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں، وہ گھر کے بھیدی ہیں جنہوں نے لنکا ڈھائی، الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کی، 8 اکتوبر 2016 کو الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا لیکن پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار محدود وقت کے لیے ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن عدالت یا ٹربیونل نہیں، یہ اتھارٹی کے تحت فنڈز کے حوالے سے اختیاررکھتا ہے، اس کے اختیارات پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس موقع پرپی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کو تمام فنڈنگ بذریعہ بینک ملتی ہیں، جس پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس بات کے آپ کے پاس کیا شواہد ہیں۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے کیلی فورنیا میں 195 ملٹی نیشنل کارپوریشنز سے فنڈز لیے اس کے علاوہ بھارت سمیت دیگرغیر ملکیوں سے بھی فنڈز لیے گئے، پی ٹی آئی کی تفصیلات میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں، فنڈز دینے والوں کا کہیں نام نہیں تو کہیں ایڈریس نہیں،عدالت میں ویب سائٹ کھول کر دیکھا جا سکتا ہے، جس پرانورمنصورنے کہا کہ پی ٹی آئی نے فنڈزکی تمام تفصیلات دی ہیںجس پراکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کوکئی ملین ڈالرزممنوعہ ذرائع سے ملے، سوال یہ ہے کہ کیا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو پی ٹی آئی نے ڈونرزکی مکمل فہرست دی، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو تو دی گئی تفصیلات پر رپورٹ تیار کرناہوتی ہے۔چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ امید ہے آپ سپریم کورٹ کے دائرہ کارپرسوال نہیں اٹھائیں گے جس پرانورمنصورنے کہا کہ ان کی جانب سے عدالتی دائرہ کار پر اب کسی صورت سوال نہیں آٹھایا جائے گا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…