ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سیز فائر کی خلاف ورزی۔۔۔!پاک فوج کا بھارت کو منہ توڑ جواب

datetime 21  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ایک عہدے دار نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزام کو پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطا بق ایک سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کنٹرول لائن سے دراندازی کی کوشش کے ہندوستانی دعوے میں صداقت نہیں کیوں کہ کنٹرول لائن پر اس طرح کی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اس طرح کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرکے دنیا کی توجہ کشمیر کے صورتحال سے ہٹانا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں لاچی پورہ کے علاقے میں 10 دراندازوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ہندوستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ 12 دراندازوں کو، اوڑی میں ہندوستانی آرمی کے 12ویں بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر لاچی پورہ کے علاقے میں پیچھے دھکیلا گیا۔واضح رہے کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے جس علاقے میں در اندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا وہ اوڑی کیمپ کے قریب ہے جہاں اتوار کے روز حملہ ہوا تھا اور ہندوستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں جیش محمد کے 4 ارکان ملوث تھے جو سرحد پار سے آئے تھے۔
پاکستانی حکام نے ہندوستان کی جانب سے دراندازی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول میں دراندازی کو روکنے کے لیے انڈٰیا کے تین صفوں پر مشتمل انتظامات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ شدت پسندوں کے سرحد پار کرنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔اوڑی حملے کے بعد ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کو بتایا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات ہیں اور پاکستانی سرزمین سے کسی کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں،ہندوستانی فوج نے پاکستانی فورسز پر کنٹرول لائن کے لاچی پورہ اور ماہیان بونیار کے علاقوں میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا اور انڈین میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ہندوستان کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستانی فورسز دراندازی کی کوشش کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔پاکستانی عہدے دارے نے ہندوستان کے ان تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہیں بلکہ انڈیا سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2014 اور 2015 میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات کو اٹھاکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان ہمیشہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آغاز سے قبل سیز فائر کی خلاف ورزی شروع کرتا ہے جس کا سلسلہ آگست کے آخر تک جاری رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…