اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو‘‘

datetime 7  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے وطن کے دفاع کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پہلے مضبوط تھا اب ناقابل تسخیر ہے، دُشمنوںکی ہر ظاہری اور خفیہ سازش اور اِرادے سے بخوبی آگاہ ہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ کے بارے میں مختلف حلقوں میں شکوک و شُبہات عام تھے۔ لیکن مجھے اُس وقت بھی بحیثیت سپہ سا لا ر ، افواجِ پاکستان کی صلاحیت اور عزم پر پورا یقین تھا اور آج وطن عزیز کا کوئی بھی علاقہ سبز ہلالی پرچم کے سائے سے محروم نہیں ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے اب تک ہمارے بہادر جوانوں نے پورے ملک میں 19000سے زائد آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پایا ہے۔ کامیابیوں کے اِس لمبے سفر میں فوج کے ساتھ رینجرز، ایف سی، پولیس اور لیویز نے بیش بہا قُربانیاں پیش کی ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوںنے اِن کامیابیوں میں انتہائی اہم کِردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان بے مثال تعاون کا نتیجہ ہے۔ بالخصوص پاک فضائیہ آپریشن کے ہر مرحلے پر پاک فوج کے شانہ بَشانہ رہی۔ مسلح افواج کا یہ باہمی ربط ہمارا بیش قیمت اَثاثہ ہے۔پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ دہشت گردی کے خِلاف جنگ میں تقریباً 18,000؍ معصوم شہریوں کے عِلاوہ مسلح افواج کے 5000؍ افسروں اور جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ 48,000؍ سے زیادہ پاکستانی شدید زخمی ہوچکے ہیں۔ ہم اپنے شہیدوں کی قُربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
دُنیا کے نزدیک ضرب عضب شاید محض ایک فوجی آپریشن ہو لیکن ہمارے لئے یہ وطن کی بقاء کی جنگ ہے۔ قومی سلامتی کی خاطر ہم کسی بھی حد تک جانے سے گُریز نہیں کریں گے۔۔آرمی چیف کہاکہ دِفاعِ وطن کے لئے قربان ہونے والے اے پی ایس کے معصوموں، باچا خان یونیورسٹی کے جواں سال مِعماروں، بلوچستان کے علم اور قانون کے ماہر وکلاء، ملک و قوم کے شہیدوں، مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیوں ،ایف سی، رینجرز، پولیس اور لیویز کے جانثاروں کی لازوال عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ کا جذبہ ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ جس فوج کی کمان میرے ہاتھ میں ہے اُس کے آفیسرز اور جوان آج بھی ماضی کے عظیم ہیروز کی قائم کی ہوئی روایات کے امین ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ اپنی قوم کے ہر فرد کی ہمت اور عزم پر مکمل یقین ہے۔ بِالخصوص ہمارے باصلاحیت نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید، امین اور ضامن ہیں۔ میں اپنی قوم کی طرف سے امن اور انسانیت کے دشمنوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہم جیت سکتے ہیںتو اپنی جیت کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…