اسلام آباد(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر گذشتہ برس 28 مئی کے کل جماعتی اجلاس میں فیصلوں سے مکر رہے ہیں۔بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس مسئلے پر جلد ایک اور کل جماعتی اجلاس طلب کرے گی جس میں چھوٹے صوبوں کے مطالبات نہ تسلیم کرنے پر حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ 46 ارب ڈالر کی مالیت سے تعمیر کی جانے والی اس راہداری کا پہلے مغرقی روٹ تعمیر کیا جائے گا۔’ہم نے وزیر اعظم کے وعدے پر اعتبار کر لیا لیکن اب دیکھ رہے ہیں کہ چھیالیس ارب سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ پنجاب میں ہے۔ تمام کوئلے اور ایل این جی کے منصوبے پنجاب میں ہیں۔ ہم لڑائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہم روٹ کے خلاف ہیں۔‘ان کا موقف تھا کہ گوادر اور خیبر پختونخوا کے راستے مشرقی شاہراہ کے مقابلے میں مغربی روٹ چھ سو کلومیٹر مختصر ہے۔’پہلے بتایا گیا تھا کہ دونوں روٹس پر انفراسٹرکچر یکساں ہوگا۔ لیکن جب اس سے زیادہ مناسب (مغربی) روٹ پر نہ توانائی کے پلانٹ ہوں گے، نہ کوئی صنعتی پارکس اور انفراسٹرکچر ہوگا تو پھر یہ کیسے چلے گا؟ یہ توانائی اور دیگر کوئی چھوٹے منصوبے نہیں ہیں۔ یہ انڈسٹریل پارکس چھوٹے چھوٹے نہیں بلکہ پورے پورے شہر بنیں گے۔ تو جب (مغربی روٹ) پر توانائی نہیں ہوگی، بجلی نہیں ہوگی، موٹر وے نہیں ہوں گے تو کیسے چلیں گے۔‘پہلے بتایا گیا تھا کہ دونوں روٹس پر انفراسٹرکچر یکساں ہوگا۔ لیکن جب اس سے زیادہ مناسب (مغربی) روٹ پر نہ توانائی کے پلانٹ ہوں گے، نہ کوئی صنعتی پارکس اور انفراسٹرکچر ہوگا تو پھر یہ کیسے چلے گا؟ یہ توانائی اور دیگر کوئی چھوٹے منصوبے نہیں ہیں۔ یہ انڈسٹریل پارکس چھوٹے چھوٹے نہیں بلکہ پورے پورے شہر بنیں گے۔ تو جب (مغربی روٹ) پر توانائی نہیں ہوگی، بجلی نہیں ہوگی، موٹر وے نہیں ہوں گے تو کیسے چلیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی حکومت حالیہ دنوں میں اس منصوبے پر کافی شور کر رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی اس پر قرار داد بھی منظور کر چکی ہے۔ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے دانشمندی سے ’بلیک اینڈ وائٹ‘ میں چھوٹے صوبوں کے خدشات دور نہ کیے تو یہ منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع ہوسکتا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اس منصوبے سے متعلق چھوٹے صوبوں سے اپنے وعدے پورے کریں۔خیبر پختونخوا کے برعکس بلوچستان میں اس وقت حکمراں مسلم لیگ (ن) ہی ہے لہٰذا وہ صوبائی حکومت کی سطح پر اس پر کچھ زیادہ اعتراض نہیں کر رہی ہے۔ لیکن وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے خدشات کے اظہار میں پیش پیش ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اتوار کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منقعد کی جس میں یہ شکایات کھل کر سامنے آئیں۔چین بھی حکومت پاکستان سے کہہ چکا ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کافی مشکل سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔
اقتصادی راہداری منصوبہ،پرویز خٹک نے ایک اہم سوال اٹھا دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ
-
مومنہ اقبال نے حمزہ حبیب سے نکاح کرلیا
-
بنگلادیش کا بڑا فیصلہ، پاسپورٹ پر دوبارہ ”سوائے اسرائیل” لکھنے کا اعلان



















































