اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین بھی پس پردہ رابطے ماضی میں تھے اور اب بھی ہے نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک کے ساتھ رابطے اور تعلقات کے مراسلے قائم ہیں اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کی پالیسی میں یکسانیت پائی جاتی ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات رہے ہیں تاہم سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت قائم نہیں کر سکتا ہے جب تک اسرائیل مقبوضہ فلسطین کے علاقے خالی نہیں کرتے ہں۔ متحدہ عرب امارات بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار تھے عرب ممالک کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں حالانکہ بظاہر ان کے ساتھ تعلقات اتنے کشیدہ نہیں ہے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اسرائیل نے پاکستان کو اسرائیل تسلیم کرنے کی شرط پر بہت دفاعی زرعی دیگر امداد کرنے کی پیش کش کی تھی انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ پس پردہ رابطے ماضی میں تھے اور شاید اب بھی ہوں۔
پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات،قصوری نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































