منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو کا”مال پانی“جمع کرنے کا راز راز نہ رہا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن)پیپلزپارٹی کے گزشتہ دورحکومت میں ایوان صدر میں بیٹھ ”مال پانی“ جمع کرنیوالے سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو کی کرپشن کا راز اب راز نہ رہا،انسداد بدعنوانی سے متعلق اداروں نے ملک بھر کے بینکوں میں اکاﺅنٹس اور جائیدادوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا ۔ذرائع کے مطابق سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالقیوم کی اسلا آباد کے علاوہ کراچی اور اندرون سندھ جائیدادوں اور بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات ذمہ داروں نے حاصل کرلی ہیں اور لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی سوٹ، جوتے ، ٹائیں پہننے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں شہرت رکھ نے والے ڈ اکٹر عبدالقیوم کراچی کی ایک جیل میں تقریباً20سال قبل بطور ڈاکٹر تعینات تھے ۔نوازشریف کے دوسرے دور میں جب سابق صدر آصف علی زرداری جیل میں تھے تو اس ڈاکٹر نے جیل کے آصف علی زرداری کو تمام سہولیات فراہم کیں جس کی وجہ سے وہ نہ صرف ان کے بہت قریب آگئے بلکہ قابل اعتماد دوست بن گئے ، بعد ازاں ڈاکٹر قیوم نے سابق صدر زرداری کے کہ نے پر سکاری ملازمت بھی چھوڑ دی اور زرداری کے ذاتی سٹاف میں شامل ہو گئے ۔ذرائع کے مطابق 2008ءکے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کے اقتدار سنبھالنے اور آصف زراری کے صدرمملکت بننے کے بعد ڈاکٹر قیوم سومرو کوانتہائی اہم پوزیشن حاصل ہو گئی اور وہ آصف زرداری کی طرح کی مصروفیات کے علاوہ ان کے بہت سے ذاتی معاملات کے بھی ذمہ دار تھے ۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر قیوم سومرو نے سابق صدر کی پانچ سالہ صدارت کے دوران میڈیا سے تعلقات کے نام پر بھی کروڑوں روپے فنڈز حاصل کیے ۔ڈاکٹر سومرو کو ان کی سابق صدر کیلئے خدمات کے اعتراف میں سندھ سے چند ماہ کے لئے سینیٹر بھی بنایا گیا تھا اور جب ان کی بطور سینیٹر مدت ختم ہوئی تو آصف زرداری کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے انہیں اپنا مشیر اوقاف مقرر کرلیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…