اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

مشرقی ترکی میں کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انقرہ (نیوزڈیسک) مشرقی ترکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے ہیں۔انھوں نے اب تک اس سے 10 لاکھ لیرا یا ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر کمائے ہیں۔ہیبر ترک نیوز ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے بنگول صوبے میں ساری سیسیک کے مقامی باشندے اب بھی اس علاقے میں خاک چھان رہے ہیں اور ان میں سے بعض لوگوں نے انھیں بیچ بیچ کر گاڑیاں اور گھر خرید لیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان شہابی پتھروں کی قیمت تقریبا 60 ڈالر فی گرام ہے۔گاو ¿ں کے تقریبا 3200 باشندوں میں سب سے خوش قسمت 30 سالہ حسن بلدک نکلے جنھیں ڈیڑھ کلو کا ٹکڑا ملا۔ ان کی خوش دامن نے شہابی حجرات کی تلاش کے لیے ان کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔انھوں نے نیوز سائٹ کو بتایا کہ جب میں ان کو برداشت نہ کرسکا تو میں باہر نکلا اور سوچا کہ چلو کوشش کرتے ہیں۔ میں نے اس علاقے کی تین چار گھنٹے تک خاک چھانی تب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کی مٹھی بھر کا ایک سیاہ چمکیلا پتھر میری طرف دیکھ رہا ہے۔بلدک نے اس ٹکڑے کےلئے ساڑھے تین لاکھ لیرا یعنی ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کی قیمت اور زیادہ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ جو پیسہ ملے گا اس سے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ استنبول میں پیسٹری کی دکان کھولیں گے۔اسی طرح کے ایک آسمانی خزانے کی تلاش نے روس کے چیلیابنسک علاقے کو 2013 میں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا جب ایک بڑا شہابیہ جھیل میں گرا تھا اور اس کے ٹکڑے ایک وسیع علاقے میں بکھر گئے تھے۔ایک سائنسدان نے بتایا کہ شہابیے کے یہ ٹکڑے معدنیات کے لحاظ سے کسی سائنسی دلچسپی کا باعث نہیں ہیں تاہم محقوق اور نوادرات کو اکٹھا کرنے والے افراد کی نگاہ میں بڑے ٹکڑے کی ابھی بھی بہت قدر و قیمت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…