منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

مشرقی ترکی میں کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انقرہ (نیوزڈیسک) مشرقی ترکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے ہیں۔انھوں نے اب تک اس سے 10 لاکھ لیرا یا ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر کمائے ہیں۔ہیبر ترک نیوز ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے بنگول صوبے میں ساری سیسیک کے مقامی باشندے اب بھی اس علاقے میں خاک چھان رہے ہیں اور ان میں سے بعض لوگوں نے انھیں بیچ بیچ کر گاڑیاں اور گھر خرید لیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان شہابی پتھروں کی قیمت تقریبا 60 ڈالر فی گرام ہے۔گاو ¿ں کے تقریبا 3200 باشندوں میں سب سے خوش قسمت 30 سالہ حسن بلدک نکلے جنھیں ڈیڑھ کلو کا ٹکڑا ملا۔ ان کی خوش دامن نے شہابی حجرات کی تلاش کے لیے ان کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔انھوں نے نیوز سائٹ کو بتایا کہ جب میں ان کو برداشت نہ کرسکا تو میں باہر نکلا اور سوچا کہ چلو کوشش کرتے ہیں۔ میں نے اس علاقے کی تین چار گھنٹے تک خاک چھانی تب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کی مٹھی بھر کا ایک سیاہ چمکیلا پتھر میری طرف دیکھ رہا ہے۔بلدک نے اس ٹکڑے کےلئے ساڑھے تین لاکھ لیرا یعنی ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کی قیمت اور زیادہ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ جو پیسہ ملے گا اس سے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ استنبول میں پیسٹری کی دکان کھولیں گے۔اسی طرح کے ایک آسمانی خزانے کی تلاش نے روس کے چیلیابنسک علاقے کو 2013 میں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا جب ایک بڑا شہابیہ جھیل میں گرا تھا اور اس کے ٹکڑے ایک وسیع علاقے میں بکھر گئے تھے۔ایک سائنسدان نے بتایا کہ شہابیے کے یہ ٹکڑے معدنیات کے لحاظ سے کسی سائنسی دلچسپی کا باعث نہیں ہیں تاہم محقوق اور نوادرات کو اکٹھا کرنے والے افراد کی نگاہ میں بڑے ٹکڑے کی ابھی بھی بہت قدر و قیمت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…