جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مشرقی ترکی میں کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انقرہ (نیوزڈیسک) مشرقی ترکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی دیہات کے لوگ شہابی پتھروں کے ٹکڑے فروخت کر کے مالامال ہو گئے ہیں۔انھوں نے اب تک اس سے 10 لاکھ لیرا یا ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر کمائے ہیں۔ہیبر ترک نیوز ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے بنگول صوبے میں ساری سیسیک کے مقامی باشندے اب بھی اس علاقے میں خاک چھان رہے ہیں اور ان میں سے بعض لوگوں نے انھیں بیچ بیچ کر گاڑیاں اور گھر خرید لیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان شہابی پتھروں کی قیمت تقریبا 60 ڈالر فی گرام ہے۔گاو ¿ں کے تقریبا 3200 باشندوں میں سب سے خوش قسمت 30 سالہ حسن بلدک نکلے جنھیں ڈیڑھ کلو کا ٹکڑا ملا۔ ان کی خوش دامن نے شہابی حجرات کی تلاش کے لیے ان کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔انھوں نے نیوز سائٹ کو بتایا کہ جب میں ان کو برداشت نہ کرسکا تو میں باہر نکلا اور سوچا کہ چلو کوشش کرتے ہیں۔ میں نے اس علاقے کی تین چار گھنٹے تک خاک چھانی تب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کی مٹھی بھر کا ایک سیاہ چمکیلا پتھر میری طرف دیکھ رہا ہے۔بلدک نے اس ٹکڑے کےلئے ساڑھے تین لاکھ لیرا یعنی ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کی قیمت اور زیادہ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ جو پیسہ ملے گا اس سے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ استنبول میں پیسٹری کی دکان کھولیں گے۔اسی طرح کے ایک آسمانی خزانے کی تلاش نے روس کے چیلیابنسک علاقے کو 2013 میں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا جب ایک بڑا شہابیہ جھیل میں گرا تھا اور اس کے ٹکڑے ایک وسیع علاقے میں بکھر گئے تھے۔ایک سائنسدان نے بتایا کہ شہابیے کے یہ ٹکڑے معدنیات کے لحاظ سے کسی سائنسی دلچسپی کا باعث نہیں ہیں تاہم محقوق اور نوادرات کو اکٹھا کرنے والے افراد کی نگاہ میں بڑے ٹکڑے کی ابھی بھی بہت قدر و قیمت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…