جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

ماں نے مرنےکے بعد اپنی نافرمان اولاد کو سبق سکھا دیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اولاد بڑھاپے میں والدین کا سہارا ہوتی ہے ، مگر مغربی معاشرےمیں والدین کو بوڑھا ہونے کے بعد ٹھکرا کر خود سے دوریعنی اولڈ ہوم میں بھرتی کرنے کا رواج عام ہے ۔ ماں باپ کو بے سہارا بوڑھوں کے نگہداشتی مراکز میں داخل کرکے ، اولاد ان کے خون پسینے کی کمائی پر قابض ہوجاتی ہے ۔
بچوں کی بے رُخی سے دلبرداشتہ ہوکر ایک ایسی ہی آسٹرین خاتون نے نافرمان اولاد کو ایسا سبق سکھایا جو انہیں ہمیشہ یاد رہے گا ۔
80 سالہ لیوناہیلمسلے نے وفات سے قبل اپنے پاس موجود 10 لاکھ یورو کے نوٹ پرزے پرزے کر ڈالے، تاکہ اس کے مرنے کے بعد اولاد کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مختلف مغربی اخبارات کے حوالے سے لکھا ہے کہ آسٹریا سے تعلق رکھنے والی ایک 80 سالہ مالدار خاتون کا گزشتہ منگل کو انتقال ہوگیا ۔ لیوناہیلمسلے نامی معمر خاتون صاحب اولاد ہونے کے باوجود بڑھاپے کی عمر میں اکیلی زندگی گزارنے پر مجبور تھی ۔ لیوناہیلمسلے ، آسٹریا کے ایک شمالی قصبے سے تعلق رکھتی تھی ، اور اسی قصبے کے ایک قدیم مکان میں برسوں سے رہائش پذیر تھی ۔
گزشتہ منگل کے روز پولیس کو معلوم ہوا کہ معمر خاتون کا اپنے گھر میں انتقال ہوگیا ہے ، جب پولیس لاش لینے کے لیے اس کے گھر میں داخل ہوئی تو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لیونا کے کمرے میں ہر طرف یورو ( یورپ کی مشترکہ کرنسی ) کے نوٹوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے ۔
مقامی اخبار کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے اپنی موت سے 5 روز قبل ان نوٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے ۔
مقامی جریدے ’’ کوریر‘‘ کے مطابق ، لیوناہیلمسلے ایک کاروباری خاتون تھی ۔ وہ اپنی جوانی میں مختلد شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی رہی ۔ لیوناہیلمسلے نے اپنے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقوم کو مختلف بنکوں میں جمع کر رکھا تھا ۔ نوجوانی میں ہی لیونا کی شادی ہوئی ، اس کی ایک بیٹی اور 2 بیٹے ہیں ۔ تاہم جب اس کی عمر 65 برس سے تجاویز کر گئی تو اس کا وجود اولاد کو بوجھ محسوس ہونے لگا ۔ بیٹوں کی شادی ہونے کے بعد ماں ان لوگوں کے لیے اجنبی بن گئی ، جبکہ بیٹی نے بھی پرائے گھر جانے کے بعد ماں کو اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا ۔ اسطرح لیوناہیلمسلے نے جن بچوں کو لاڈ پیار سے پالاپوسا تھا ، بڑھاپے میں انہوں نے اپنا رُخ پھیر لیا اور خاتون کو مجبوراً اولڈ ہوم میں پناہ لینا پڑی ۔ مقامی اولڈ ہوم میں تقریباً 10 سال گزارنے کے بعد لیوناہیلمسلے کے لئے زندگی بوجھ محسوس ہونے لگی ۔ اس نے سوچا اپنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ کیوں دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارے ۔ یہ سوچ کر اس نے اولڈ ہوم کو خیرباد کہا اور اپنے ذاتی گھر چلی آئی اور وہاں برسوں مقیم رہی ۔
لیوناہیلمسلے کی عمر 80 سال سے زیادہ ہوچکی تھی ، مگر اس کے باوجود بھی وہ گھر کے کام کاج خود نمٹاتی تھی ، وہ اپنی ایک پالتو بلی کے ساتھ قدیم گھر میں زندگی کے باقی ایام گزارتی رہی ۔ جبکہ اس تمام عرصے کے دوران اس کے بچوں نے اس کا احوال پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کہ لیونا کے بچوں کو معلوم تھا کہ ان کی ماں کی مختلف بنکوں میں خاصی رقوم محفوظ ہیں ۔ وہ ان رقوم کا نکالنے کے لیےماں کی موت کے منتظر تھے ۔
تاہم گزشتہ ہفتے جب لیوناہیلمسلے کی طبیعت خراب ہوئی تو اسے محسوس ہوا کہ زندگی کی شام ہونے والی ہے ۔ وہ اپنی اولاد کی بے رُخی کی وجہ سے ہر انسان سے اتنی متنفر ہوچکی تھی کہ اس نے اپنی ڈائری میں خیراتی اداروں کے خلاف لکھا تھا ۔ اسنے یہ بھی لکھا تھا کہ میری محنت کی کمائی ہر انسان کے لیے حرام ہے ، کیا میں اپنی رقوم اولاد کو دوں ؟ اس کے بعد ایک لمبا ’’ نو‘‘ (نہیں ) لکھ کر اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا ۔ اس کے بعد لیونا نے ان تمام بنکوں کا رُخ کیا ۔ جہاں اس نے اپنے اکاؤنٹ کھول رکھے تھے ۔ وہ تمام اکاؤنٹس میں محفوظ اپنی رقوم نکلوا کر اپنے گھر لے آئی ، جو تقریباً 10 لاکھ یورو یا 11 لاکھ ڈالر مالیت کے کرنسی نوٹ تھے ۔ پاکستانی روپے کے حساب سے ان کی مالیت تقریباً 11 کروڑ 33 لاکھ بنتی ہے ۔ لیونا نے 100 اور 500 کے ان فریش نوٹوں کے ٹکڑے کر دیئے اور انہیں اپنے کمرے میں بکھیر دیا ، جس کے پانچ روز بعد اس خاتون کا انتقال ہوگیا ۔
رپورٹ کیمطابق خاتون کی موت کے بعد اس کا بیٹا سامنے آیا ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ لیونا نے ورثا کو محروم کرنے کے لیے نوٹ نہیں پھاڑے ہیں ، بلکہ اس کی ذہنی کیفیت درست نہیں تھی ۔ اس لیے اس نے آسٹریا کے مرکزی بنک سے درخواست کی ہے کہ ان پھاڑے ہوئے نوٹوں کو تبدیل کرکے اسے دوسرے نوٹ دیدیئےجائیں ۔ تاہم اس کی درخواست پر تاحال غور جاری ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…