جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

راہداری منصوبہ، دیامیر بھاشا ڈیم شامل کرنے کی تجویز

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ پاک ۔چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) منصوبے میں دیامیر بھاشا ڈیم اور بجلی کے منصوبوں کو بھی شامل کرے۔پلاننگ اور ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایا کہ ’ہم نے چینی حکومت کو یہ تجویز دی ہے کہ راہداری منصوبے کے اگلے مرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کیا جائے۔‘وہ دونوں ممالک کی جانب سے سی پی ای سی میڈیا فورم کے اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔خیال رہے کہ سی پی ای سی کے پہلے مرحلے میں 34 ارب ڈالر کے بجلی کے منصوبوں کو شامل کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا گیا تھا اور اگر چین اس تجویز کو قبول کرلیتا ہے تو اسے راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیری لاگت 12 ارب روپے لگائی گئی ہے۔4500 میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں مشکلات کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ڈیم اور بجلی کے منصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حکومت سی پی ای سی میں کس منصوبے کو شامل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔پلاننگ اور ترقی کے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت ا?ئندہ سال ہائیڈل منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے پہلے ہی سے زمین کے حصول کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔مذکورہ منصوبہ سب سے پہلے 2001 میں پیش کیا گیا تھا تاہم اس میں تاخیر کی وجہ سے اس کی تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔احسن اقبال نے خبر دار کیا کہ اگر ا?ئندہ سال ڈیم پر کام کا ا?غاز نہ ہوسکا تو پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک 2018 تک بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ونڈ اور سولر انرجی کے منصوبے ایک سال میں مکمل کر لیے جائیں گے جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا منصوبہ 2018 اور ہائیڈل پاور پروجیکٹ 2020 میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر کا کہنا تھا کہ سی پی ای سی میں سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور اس میں مزید ضروری منصوبوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے سی پی ای سی کو منصوبے کے بجائے ’ایک عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مکمل ہونے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے، ’سی پی ای سی میں پیش رفت کے دوران سرمایہ کاری میں اضافے کا امکان ہے۔‘انھوں نے واضح کیا کہ سی پی ای سی سے جوڑی جانے والی 46 ارب ڈالر کی رقم صرف اس کے پہلے مرحلے کے لیے مختص ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…