جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

یورپ آنے والے کسی بھی تارک وطن کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستانی ہے تو فوری قبول کر لیں گے،سرتاج عزیز

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)وزیراعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ یورپ آنے والے کسی بھی تارک وطن کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستانی ہے تو ہم اسے فوری قبول کر لیں گے، اب پاکستانی مہاجرین کی واپسی میں حائل مشکلات کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا، یورپ پاکستانیوں کو قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کرے۔ پاکستان کے پاس اچھے تربیت یافتہ افراد ہیں جومشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں، یورپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جرمن میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چند ماہ پہلے تک پاکستانی مہاجرین کا مسئلہ کوئی زیادہ سنگین نہیں تھا اور یورپ پہنچنے والے پاکستانی تارکین وطن کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ حالیہ چند ماہ میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، پہلے غیر قانونی پاکستانی مہاجرین کی دستاویزات کی تصدیق کا عمل انتہائی سست تھا۔ دستاویزات پوسٹ کے ذریعے بھیجی جاتی تھیں، اب ہم نے اس عمل کو الیکٹرانک کر دیا ہے۔ اگر یہ بات کنفرم ہو جاتی ہے کہ ان مہاجرین کا تعلق پاکستان سے ہے، تو سیاسی سطح پر ہم انہیں فوراً قبول کر لیا کریں گے۔ اب سے مہاجرین کی واپسی سے متعلق تیز رفتار اور موثر طریقہ کار اپنایا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستانی مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انہیں پاسپورٹ یا پھر شناختی کارڈ کے حصول کے پاکستان کے سفارت خانے یا پھر قونصلیٹ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ یا قونصلیٹ جمع کروائے جانے والے کاغذات تصدیق کے لیے پاکستان بھیج دیتا ہے اور بعض اقات اس عمل میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔دوسری جانب پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہہ چکے ہیں کہ یورپ سے واپس بھیجے جانے والے ایسے تارکین وطن کو جہاز سے نہیں اترنے دیا جائے گا، جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ یا پھر پاسپورٹ نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد حکام کے مطابق پاکستان ان تارکین وطن کو واپس نہیں لے گا، جن کا کریمنل ریکارڈ ہوا یا پھر ان کے پاس ڈبل نیشنلٹی ہوئی۔دوسری جانب سرتاج عزیز نے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ یورپ پاکستانیوں کو قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اچھے تربیت یافتہ افراد ہیں اور ان میں سے بہت سے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یورپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود بھی اس وقت تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ پہلے ان کی تعداد پچاس لاکھ تھی، ہمارے لیے مہاجرین کو قبول کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی وجہ سے یورپ میں پائی جانے والی بے چینی پاکستان ایسے ملکوں کے لیے ناقابل فہم ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں سے بھی لوگ یورپ پہنچ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے ہیں، ہمیں اس چیز کو واضح کرنا ہو گا اور اس کی حوصلہ شکنی بھی کرنا ہو گی۔لکسمبرگ میں یورپ اور 51 ایشیائی ملکوں کے ’ای ایس ای ایم‘ اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے انتہائی مثبت سگنل ملے ہیں۔ اسلام آباد حکومت مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔یورپ پہنچنے والے مہاجرین کے لحاظ سے پاکستان ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ رواں برس کے آغاز سے ستمبر کے مہینے تک تیس ہزار سے زائد پاکستانی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکے تھے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ یورپی رہنماو ¿ں کے مطابق پاکستانیوں کی یہ تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو قابل تشویش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…