برلن(نیوزڈیسک)وزیراعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ یورپ آنے والے کسی بھی تارک وطن کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستانی ہے تو ہم اسے فوری قبول کر لیں گے، اب پاکستانی مہاجرین کی واپسی میں حائل مشکلات کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا، یورپ پاکستانیوں کو قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کرے۔ پاکستان کے پاس اچھے تربیت یافتہ افراد ہیں جومشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں، یورپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جرمن میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چند ماہ پہلے تک پاکستانی مہاجرین کا مسئلہ کوئی زیادہ سنگین نہیں تھا اور یورپ پہنچنے والے پاکستانی تارکین وطن کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ حالیہ چند ماہ میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، پہلے غیر قانونی پاکستانی مہاجرین کی دستاویزات کی تصدیق کا عمل انتہائی سست تھا۔ دستاویزات پوسٹ کے ذریعے بھیجی جاتی تھیں، اب ہم نے اس عمل کو الیکٹرانک کر دیا ہے۔ اگر یہ بات کنفرم ہو جاتی ہے کہ ان مہاجرین کا تعلق پاکستان سے ہے، تو سیاسی سطح پر ہم انہیں فوراً قبول کر لیا کریں گے۔ اب سے مہاجرین کی واپسی سے متعلق تیز رفتار اور موثر طریقہ کار اپنایا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستانی مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انہیں پاسپورٹ یا پھر شناختی کارڈ کے حصول کے پاکستان کے سفارت خانے یا پھر قونصلیٹ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ یا قونصلیٹ جمع کروائے جانے والے کاغذات تصدیق کے لیے پاکستان بھیج دیتا ہے اور بعض اقات اس عمل میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔دوسری جانب پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہہ چکے ہیں کہ یورپ سے واپس بھیجے جانے والے ایسے تارکین وطن کو جہاز سے نہیں اترنے دیا جائے گا، جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ یا پھر پاسپورٹ نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد حکام کے مطابق پاکستان ان تارکین وطن کو واپس نہیں لے گا، جن کا کریمنل ریکارڈ ہوا یا پھر ان کے پاس ڈبل نیشنلٹی ہوئی۔دوسری جانب سرتاج عزیز نے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ یورپ پاکستانیوں کو قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اچھے تربیت یافتہ افراد ہیں اور ان میں سے بہت سے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یورپ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود بھی اس وقت تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ پہلے ان کی تعداد پچاس لاکھ تھی، ہمارے لیے مہاجرین کو قبول کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی وجہ سے یورپ میں پائی جانے والی بے چینی پاکستان ایسے ملکوں کے لیے ناقابل فہم ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں سے بھی لوگ یورپ پہنچ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے ہیں، ہمیں اس چیز کو واضح کرنا ہو گا اور اس کی حوصلہ شکنی بھی کرنا ہو گی۔لکسمبرگ میں یورپ اور 51 ایشیائی ملکوں کے ’ای ایس ای ایم‘ اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے انتہائی مثبت سگنل ملے ہیں۔ اسلام آباد حکومت مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔یورپ پہنچنے والے مہاجرین کے لحاظ سے پاکستان ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ رواں برس کے آغاز سے ستمبر کے مہینے تک تیس ہزار سے زائد پاکستانی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکے تھے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ یورپی رہنماو ¿ں کے مطابق پاکستانیوں کی یہ تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو قابل تشویش ہے۔
یورپ آنے والے کسی بھی تارک وطن کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستانی ہے تو فوری قبول کر لیں گے،سرتاج عزیز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































