جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ایل این جی منصوبے بارے دھمکیاں مل رہی ہیں

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کو ایل این جی منصوبے کے حوالے سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس منصوبے کو ختم کرنے کے لئے آئل مافیا نے انھیں بھاری رشوت کی پیش کش بھی کی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو قطر کے خلاف نا مناسب بیان دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک تیل مافیا ہے مجھے لالچ اور خوفزدہ کیا جارہا ہے کہ میں ایل این جی ٹرمنل پر کام مت کروں۔‘انھوں نے کہا کہ ان کو کچھ سمریز پر دستخط کرنے کے لیے فوائد کی پیشکش کی گئی ہے۔ایسے افراد کو بے نقاب کرنے کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے وہ تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ انھوں نے سوئی نادرن گیس پائپلانز (ایس این جی پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سعید مہدی سے ملاقات کی تھی اور ان کو کہا تھا کہ وہ بورڈ اور کمپنی کے انتظامی معاملات کا خیال رکھے جیسا کہ کمپنی ایل این جی والے معاملے کو انجام تک نہیں پہنچا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ایس این جی پی ایل کے تقسیم کار سسٹم میں 20 فیصد نقصان ہورہا ہے تاہم کمپنی اسے 11 فیصد اوسط نقصان ظاہر کررہی ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم خاکان عباسی نے بتایا کہ حکومت قطر کی گیس کمپنی سے 15 سالہ طویل معاہدہ کرنا چاہتی ہے تاہم اس میں دو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔انھوں نے کہا کہ پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ وزارت پیٹرولیم، خزانہ اور بجلی کو ایل این جی درآمد کرنے کے لیے رقم کی ادائیگی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینی ہے اور ’ایسا ہم آج کے دن تک نہیں کرپائیں ہے۔‘دوسری وجہ کی تفصیلات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا حکومت کو قطر کی گیس کمپنی کو واجب الادا رقم کی کریڈٹ لیٹرز جاری کرنے ہیں اور ایسے ہی لیٹرز آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو بھی جاری کئے جانے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ کام بھی مکمل نہیں کی جاسکا ہے کیونکہ آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل این جی کے قیمت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…