بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

رینجرز کو احتساب کی دعوت ،چوہدری نثارحیرت زدہ،عمران خان پر قانون شکنی کا الزام

datetime 15  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ رینجرز کو احتساب کی دعوت دینا نہ تو قانون کے دائرے میں آتا ہے نہ کراچی یا کسی اور جگہ ان کا اس قسم کا کوئی مینڈیٹ ہے، میں حیران ہوں کہ ایک سیاسی پارٹی کے رہنماءنے ایسا مطالبہ کس طرح کیا ہے۔منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیرِداخلہ نے کہا کہ ہر ایک کو اظہارِ رائے کی کھلی آزادی ہے مگر یہ آزادی آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی کارکردگی اور قربانیوں کا سب کو اعتراف ہے مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کے لیے ہر سطح پراس لئے دادِ تحسین ہے کہ وہ ا©س فرض کو بخوبی نبھا رہے ہیں جو آئین اور قانون نے ان کو تفویض کیا ہے۔وزیرِداخلہ نے کہا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر فوج یا رینجرز سے ایسے مطالبے کرنا نہ صرف ان اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کے مترادف ہے بلکہ یہ کراچی آپریشن کو بھی اس کے اصل مقصد سے ہٹانے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ریاستی اداروں میں رخنہ اندازی کی کوششیں کرنا جمہوری نظام کی بقا اور مضبوطی کے منافی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ یہ امر قابل ِ تشویش ہے کہ سیاسی بیان بازی میں رینجرز اور فوج کے کردار کو بار بار زیرِبحث لا کر اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر بلا وجہ سیکیورٹی اداروں کے کردار اور کارکردگی کو موضوع بنا کر انکوسیاسی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان اور رینجرز کے کردار اور کارکردگی کو اس انداز سے اپنے سیاسی بیانات کا حصہ بنانا نا قابلِ فہم اور غیر مناسب ہے اور غیر ضروری اور غیر متعلقہ امور میں سیکیورٹی اداروں کو ملوث ہونے کی دعوت دینا غیر دانشمندانہ فعل ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ خواب دکھانایا الزامات کی سیاست آسان ہے لیکن مسائل کا حل ڈھونڈنا اورکارکردگی کا مظاہرہ کرناایک مشکل امر ہے۔ وزیر ِداخلہ نے کہا کہ آج کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بدرجہ بہتر ہے۔ آج جہاں ایک طرف کراچی امن کی طرف لوٹ رہا ہے وہاں ملک میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…