جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ابھی تو پارٹی باقی ہے

datetime 7  مئی‬‮  2015

حفیظ پیرزادہ افتخار چودھری سے یہ بھی پوچھیں گے آپ نے عدلیہ سے آراوز کیوں نامزد کئے؟ آپ نے 8 اپریل 2013ءکو آر اوز سے خطا ب کیوں کیا؟۔ حفیظ پیرزادہ سپریم کورٹ سے آراوز کی تقرری کا خط جاری ہونے کے بعد سپریم کورٹ اور افتخار چودھری کا ٹیلی فون ریکارڈ بھی طلب کریں گے اور یہ آراوز کو بھی جرح کیلئے بلانے کی درخواست کریں گے‘یہ افتخار چودھری سے یہ بھی پوچھیں گے‘ آپ الیکشن میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے تھے اور آپ کے کون کون سے دوست آپ کو ریٹائرمنٹ کے بعد صدر پاکستان دیکھنا چاہتے تھے؟۔
میرا خیال ہے کمیشن کی سماعت اگر اس رخ پر نکل گئی تو میاں نواز شریف منظم دھاندلی میں ملوث پائے جائیں یا سعد رفیق کی طرح بے گناہ ثابت ہوجائیں لیکن نقصان بہر حال انہیں اور ان کی حکومت کو ہوگا‘ یہ نئے الیکشن کرانے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر یہ بھی خواجہ سعد رفیق کی طرح قانونی راستوں پر دوڑ دوڑ کر اپنی مدت پوری کریں گے آپ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیں جوڈیشل کمیشن سے قبل اور جوڈیشل کمیشن کے بعد کی صورتحال میں بہت فرق ہے‘ جوڈیشل کمیشن سے قبل تمام سیاسی جماعتیں میاں نواز شریف کے ساتھ تھیں لیکن کمیشن کے قیام کے بعد یہ جماعتیں اب کمیشن کے ساتھ ہیں اور اگر میاں نواز شریف نے کمیشن کے فیصلے کا احترام نہ کیا تو یہ سیاسی جماعتیں کمیشن کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائےں گی‘ ان جماعتوں میں پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچستان کی حکمران جماعت نیشنل پارٹی پیش پیش ہو گی کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جوڈیشل کمیشن پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے واحد گواہ اور واحد ضامن ہیں‘ معاہدے پر ڈاکٹر مالک بلوچ کے دستخط بھی موجود ہیں اور یہ اپنی گواہی کا پاس رکھنے کیلئے اپنی حکومت تک قربان کر دیں گے چنانچہ این اے 125 کے ”معمولی سے فیصلے“ نے جھاڑو کی وہ گرہ کھول دی جس کے بعد اس کے تنکاتنکا ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں‘ حکومت کو چاہیے یہ اب خود ہی الیکشن کرانے کا اعلان کر دے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو جائے عمران خان اور میاں نواز شریف کی ضد دونوں کو فارغ کرا دے‘ کیوں؟ کیونکہ بنگلہ دیش ماڈل آج بھی فائلوں میں موجود ہے‘ یہ فائل ابھی کلوز نہیں ہوئی‘ ابھی تو پارٹی باقی ہے جناب!۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…