جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

ابھی تو پارٹی باقی ہے

datetime 7  مئی‬‮  2015

ہم پہلے قانونی پہلو ڈسکس کرتے ہیں‘ الیکشن ٹریبونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے چار مئی کو این اے 125 میں انتخابی دھاندلی کا فیصلہ سنایا‘ یہ فیصلہ 80 صفحات پر مشتمل تھا‘ فیصلے میں بتایا گیا حلقہ این اے 125 میں 263 پولنگ سٹیشنز تھے‘ 17 پولنگ سٹیشنر منتخب کئے گئے‘7 پولنگ سٹیشنز کے ووٹوں کی پڑتال ہوئی‘ 1352 ووٹ ”ویری فی کیشن“ کےلئے نادرا بھجوائے گئے‘ نادرا نے 1254ووٹوں کی تصدیق کر دی‘ 84 ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشانوں کی تصدیق نہ ہو سکی جبکہ 14 کاﺅنٹر فائلز پر انگوٹھوں کے نشان جعلی تھے لیکن کامیاب امیدوار خواجہ سعد رفیق اس دھاندلی کے ذمہ دار ہیں یہ ثابت نہیں ہوسکا‘ درخواست دہندہ خامد خان بھی دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کر سکے تاہم الیکشن عملے کی طرف سے سنجیدہ غلطیاں اور کوتاہیاں سامنے آئیں چنانچہ ٹریبونل نے تجویز دی ” این اے 125 میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے“ خواجہ سعد رفیق نے ٹریبونل کے اس فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ خواجہ صاحب عدالت میں یہ موقف اختیار کریں گے ”ووٹر لسٹوں کی غیر موجودگی یا کاﺅنٹر فائلز میں گڑ بڑ کے ذمہ دار ریٹرننگ آفیسر ہیں مگر سزا مجھے اور میرے حلقے کے ووٹروں کو مل رہی ہے‘ یہ زیادتی ہے‘ خواجہ صاحب کو شاید عدالت سے ریلیف بھی مل جائے کیونکہ چھ سات سنٹروں کے رزلٹ کی بنیاد پر 263 سنٹروں کے نتیجے کو کالعدم قرار دینا قرین انصاف نہیں ہو گا‘ خواجہ سعد رفیق ذاتی طور پر دوبارہ الیکشن کے قائل ہیں لیکن ان کی پارٹی اپیل کرنا چاہتی ہے‘ کیوں؟ کیونکہ پارٹی کو خدشہ ہے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حلقے این اے 122 اور خواجہ آصف کے حلقے 110میں بھی یہ صورت حال ہو سکتی ہے چنانچہ اگر خواجہ سعد رفیق نے اپیل کی بجائے الیکشن لڑا تو ایاز صادق اور خواجہ آصف کو بھی الیکشن لڑنا پڑے گا اور شاید ایاز صادق وہ الیکشن نہ جیت سکیں اور یوں پاکستان مسلم لیگ ن کو خفت اٹھانا پڑے گی چنانچہ خواجہ سعد رفیق کو پارٹی نے فیصلے کے خلاف اپیل کا حکم دے دیا ‘ خواجہ سعد رفیق عدالت جا رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اگر ایاز صادق یا خواجہ آصف اس صورتحال کا نشانہ بنے تو یہ بھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور عدالتیں جب تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گی حکومت اس وقت تک اپنی مدت پوری کر چکی ہو

گی‘ ہم اب اخلاقی پہلو کی طرف آتے ہیں‘ یہ درست ہے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی نشاة ثانیہ کےلئے بے تہاشہ کام کیا‘ یہ ریلوے کو بڑی حد تک دوبارہ پٹڑی پر بھی لے آئے ‘ ریلوے خسارے سے بھی باہر آرہا ہے ‘ پاکستان مسلم لیگ ن کو دوبارہ خواجہ سعد رفیق جیسا ریلوے کا وزیربھی نہیں ملے گا لیکن اس کے باوجود خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کی وزارت سے فوری طور پر مستعفی بھی ہونا چاہیے تھا اور پاکستان مسلم لیگ ن کو ٹریبونل کے کمزور فیصلے کے باوجود این اے 125 میں دوبارہ الیکشن کرانا چاہیے تھا اور اگر ایاز صادق اور خواجہ آصف کو بھی اس نوعیت کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے توحکومت کو ان حلقوں میں بھی ”ری الیکشن“ کرانا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے سات برس سے اخلاقیات اور عدالتوں کے احترام کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے‘ ٹریبونل بھی عدالت ہوتے ہیں اور یہ عدالت حکومت کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے چنانچہ پاکستان مسلم لیگ ن کو یہ فیصلہ مان لینا چاہیے‘ اسے تاخیری حربوں کےلئے قانون کا سہارا نہیں لینا چاہیے‘ خواجہ سعد رفیق این اے 125 میں مضبوط ہیں‘ مجھے یقین ہے یہ دوبارہ جیت کر واپس آ جائیں گے‘ رہ گئے ایاز صادق تو یہ اگر ہار جاتے ہیں تو پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس سپیکرز کی کمی نہیں‘ یہ نیا سپیکر لے آئیں اور اپنی مدت پوری کریں‘ حکومت کو صرف ایاز صادق کےلئے خواجہ سعد رفیق جیسے سیاسی ورکر کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ”ریاست“ اب خواجہ آصف کی کارکردگی سے مطمئن ہے لہٰذایہ یقینا ایاز صادق جیسے مسائل کا شکار نہیں ہوں گے۔ ہم اگر چار مئی کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں تو خواجہ سعد رفیق کی معطلی ہمیں سمندر میں چھپے برفانی پہاڑ کی چھوٹی سی چوٹی

محسوس ہو گی‘ اصل پہاڑ پانی کے اندر ہے‘ وہ پہاڑ کیا ہے؟ وہ ریٹرننگ آفیسرز ہیں‘ ٹریبونل کے اس فیصلے کے بعد پہلی بار ”ریٹرننگ آفیسرز“ متنازعہ بن کر سامنے آئے‘ آپ کو یاد ہو گا‘ آصف علی زرداری اور عمران خان پہلے دن سے ریٹرننگ آفیسرز کے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں‘ یہ دونوں بار بار کہہ رہے ہیں ” 2013ءکا الیکشن آراوز کا الیکشن تھا“ عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا‘ ہمارا الیکشن چوری کیا گیا‘ ہمیں سازش کے ذریعے ہرایا گیا‘ سازش میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری‘ جسٹس خلیل رمدے‘ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم‘ چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اقبال‘ نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی اور جنگ اور جیو گروپ شامل تھے‘ عمران خان کے بقول دھاندلی کا فیصلہ اوپر ہوا اور اس فیصلے کو عملی جامہ آر اوز نے پہنایا‘ یہ الزام کل تک محض ایک الزام تھا لیکن این اے 125 کے ٹریبونل نے فیصلے میں یہ لکھ کر ” فرائض میں غفلت برتنے پر ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کے عملہ کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کو دیا گیا معاوضہ واپس لیا جائے“ اس الزام کو ثبوت بنا دیا‘ ہمیں ماننا پڑے گا ٹریبونل کے فیصلے نے عمران خان کے دعوے کو بھی سچا ثابت کر دیا اور آر اوز کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا چنانچہ اب اگر جوڈیشل کمیشن آراوز کو سماعت کا حصہ بنا لیتا ہے اور یہ آراوز کو بلواتا ہے اور اگر ان میں سے چند آراوز یہ بیان دے دیتے ہیں ”ہم پر دباﺅ تھا“ تو 2013ءکا پورا الیکشن متنازعہ ہو جائے گا اور میاں نواز شریف کو استعفیٰ بھی دینا پڑے گا اور اسمبلیاں بھی توڑنی پڑجائیں گی‘ آپ یہ بھی فرض کیجئے اگر جوڈیشل کمیشن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی طلب کر لیتا ہے تو کیا ہوگا؟ یہ بھی ایک دلچسپ منظر ہو گا‘ چودھری صاحب کمیشن کی کارروائی کا فریق بننا چاہتے ہیں‘ یہ 14 اپریل کو کمیشن میں تحریری درخواست جمع کرا چکے ہیں” مجھے بھی فریق بنایاجائے“ کمیشن اگر افتخار محمد چودھری کو بلا لیتا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ کو سابق چیف جسٹس سے جرح کا موقع مل جاتا ہے تو پھر میاں نواز شریف کی سیاسی مشکلات کا آغاز ہو جائے گا‘ کیوں؟ کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے افتخار محمد چودھری اور جسٹس خلیل رمدے دوست اور جوڈیشل کالونی میں ایک دوسرے کے ہمسائے تھے اور رمدے خاندان کے شریف فیملی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلقات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‘ جسٹس خلیل رمدے کے ایک بھائی چودھری اسد الرحمن نے سات بار پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا‘ یہ 2013ءکے الیکشن میں بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر این اے 94 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے قومی اسمبلی کا حصہ بنے‘ جسٹس خلیل رمدے کے دوسرے بھائی محمد فاروق کی بہو عائشہ رضا فاروق بھی مارچ 2015ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئیں جبکہ الیکشن کے بعد جولائی 2013ءکو جسٹس خلیل رمدے کے صاحبزادے مصطفی رمدے کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی تعینات کیا گیا تھا ‘ پاکستان بار کونسل کے اعتراض اور تقرری کے خلاف پٹیشن پر مصطفی رمدے نے ایک سال بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا‘ حفیظ پیرزادہ کو جرح میں کمال حاصل ہے‘ یہ یقینا افتخار محمد چودھری سے کمیشن کے سامنے خلیل رمدے سے دوستانہ تعلقات کا اعتراف کروالیں گے‘ یہ ان سے یہ تصدیق بھی کرائیں گے ”آپ نے خلیل رمدے کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایڈہاک جج تعینات کیا تھا“ یہ رمدے خاندان کے شریف فیملی سے تعلقات کے ثبوت بھی پیش کریں گے‘ یہ ان سے یہ بھی پوچھیں گے آپ نے الیکشن 2013ءسے قبل الیکشن کمیشن کے سیکرٹری ‘ ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان اور ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن کو کتنی بار عدالت اور کتنی بار چیمبر میں بلایا اور آپ نے اس دوران اہم ترین مقدموں کو سائیڈ پر رکھ کر الیکشن کمیشن کے غیر اہم ایشو کو اتنی اہمیت کیوں دی؟ یہ فخرالدین جی ابراہیم سے بھی پوچھیں گے آپ 23 اکتوبر 2012ءکو چیف جسٹس سے کیوں ملے اور ان سے عدلیہ سے آر اوز لینے کی درخواست کیوں کی؟ آپ کو یہ مشورہ کس نے دیا تھا؟

حفیظ پیرزادہ افتخار چودھری سے یہ بھی پوچھیں گے آپ نے عدلیہ سے آراوز کیوں نامزد کئے؟ آپ نے 8 اپریل 2013ءکو آر اوز سے خطا ب کیوں کیا؟۔ حفیظ پیرزادہ سپریم کورٹ سے آراوز کی تقرری کا خط جاری ہونے کے بعد سپریم کورٹ اور افتخار چودھری کا ٹیلی فون ریکارڈ بھی طلب کریں گے اور یہ آراوز کو بھی جرح کیلئے بلانے کی درخواست کریں گے‘یہ افتخار چودھری سے یہ بھی پوچھیں گے‘ آپ الیکشن میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے تھے اور آپ کے کون کون سے دوست آپ کو ریٹائرمنٹ کے بعد صدر پاکستان دیکھنا چاہتے تھے؟۔ میرا خیال ہے کمیشن کی سماعت اگر اس رخ پر نکل گئی تو میاں نواز شریف منظم دھاندلی میں ملوث پائے جائیں یا سعد رفیق کی طرح بے گناہ ثابت ہوجائیں لیکن نقصان بہر حال انہیں اور ان کی حکومت کو ہوگا‘ یہ نئے الیکشن کرانے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر یہ بھی خواجہ سعد رفیق کی طرح قانونی راستوں پر دوڑ دوڑ کر اپنی مدت پوری کریں گے آپ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیں جوڈیشل کمیشن سے قبل اور جوڈیشل کمیشن کے بعد کی صورتحال میں بہت فرق ہے‘ جوڈیشل کمیشن سے قبل تمام سیاسی جماعتیں میاں نواز شریف کے ساتھ تھیں لیکن کمیشن کے قیام کے بعد یہ جماعتیں اب کمیشن کے ساتھ ہیں اور اگر میاں نواز شریف نے کمیشن کے فیصلے کا احترام نہ کیا تو یہ سیاسی جماعتیں کمیشن کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائےں گی‘ ان جماعتوں میں پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچستان کی حکمران جماعت نیشنل پارٹی پیش پیش ہو گی کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جوڈیشل کمیشن پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے واحد گواہ اور واحد ضامن ہیں‘ معاہدے پر ڈاکٹر مالک بلوچ کے دستخط بھی موجود ہیں اور یہ اپنی گواہی کا پاس رکھنے کیلئے اپنی حکومت تک قربان کر دیں گے چنانچہ این اے 125 کے ”معمولی سے فیصلے“ نے جھاڑو کی وہ گرہ کھول دی جس کے بعد اس کے تنکاتنکا ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں‘ حکومت کو چاہیے یہ اب خود ہی الیکشن کرانے کا اعلان کر دے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو جائے عمران خان اور میاں نواز شریف کی ضد دونوں کو فارغ کرا دے‘ کیوں؟ کیونکہ بنگلہ دیش ماڈل آج بھی فائلوں میں موجود ہے‘ یہ فائل ابھی کلوز نہیں ہوئی‘ ابھی تو پارٹی باقی ہے جناب!۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…