جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

فلسطین میں ناانصافی کا ذمہ دار صرف اسرائیل نہیں، امریکا اور مودی بھی ہیں،بھارتی اداکار پھٹ پڑے

datetime 21  ستمبر‬‮  2025 |

چنئی(این این آئی) بھارت کے معروف اداکار پراکش راج نے فلسطین میں جاری نسل کشی کا ذمہ دار اسرائیل کے ساتھ امریکا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ٹھہرا دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چنئی میں 19 ستمبر کو اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں جاری نسل کشی کے خلاف ایک بڑے احتجاجی جلوس اور عوامی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں ریاست تامل ناڈو کی مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں نے حصہ لیا۔اس مظاہرے میں معروف بھارتی اداکار ستھیاراج اور پراکش راج جبکہ فلم ساز ویتری ماران سمیت کئی رہنما اور شخصیات بھی شریک ہوئیں۔

اداکار پراکش راج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع انسانیت کے لیے آواز بلند کرنے والوں کا ہے۔اگر ناانصافی کے خلاف بولنا سیاست کہلاتا ہے، تو ہاں یہ سیاست ہے اور ہم بولیں گے۔انہوں نے ایک نظم سنائی کہ جنگیں ختم ہو جائیں گی، لیڈر ہاتھ ملا کر چلے جائیں گے لیکن کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرے گی، ایک بیوی شوہر کا، اور بچے اپنے والد کا۔ یہی سچ ہے۔اداکار پراکش راج نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج فلسطین میں جو نا انصافی ہو رہی ہے، اس کی ذمہ داری صرف اسرائیل پر نہیں بلکہ امریکا پر بھی ہے اور مودی کی خاموشی بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے۔پراکش راج کا کہنا تھا کہ جب ہمارے جسم پر کوئی زخم ہوتا ہے اور ہم خاموش رہیں تو وہ مزید بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی قوم کو زخم لگے اور ہم خاموش رہیں تو یہ خاموشی اس قوم کے زخم کو اور گہرا کر دیتی ہے۔اس کے علاوہ اداکار ستھیاراج نے غزہ میں جاری قتل و غارت کو ناقابلِ برداشت اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر کس طرح بمباری کی جا سکتی ہے؟ انسانیت کہاں گئی؟ ایسا ظلم کر کے یہ لوگ سکون سے کیسے سو جاتے ہیں؟ اداکار ستھیاراج نے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے فیصلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ چنئی میں احتجاج کرنے سے کیا فرق پڑے گا، مگر آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچے گا۔اداکار ستھیاراج کا کہنا تھا کہ فنکاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مظاہروں میں شریک ہوں۔ اگر ہماری شہرت انسانیت اور آزادی کے کام نہ آئے، تو پھر مشہور ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے؟اس کے علاوہ بھارتی ہدایتکار ویتری ماران نے فلسطین میں جاری جارحیت کو ایک منصوبہ بند نسل کشی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں بم نہ صرف رہائشی علاقوں بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں پر بھی برسائے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ زیتون کے درخت بھی تباہ کیے جا رہے ہیں جو لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…