منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری

datetime 15  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) توانائی کے شعبے میں پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جسے بڑی خوشخبری قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نشپا بلاک کے براگزئی ایکس ون کنویں سے حاصل ہونے والا تیل اور گیس اب قومی نظام میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس کنویں سے باقاعدہ کمرشل پیداوار کا آغاز بھی کر دیا ہے۔وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ملک کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس سے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے سالانہ تقریباً 329 ملین ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی ذخائر میں اضافہ کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم کریں گی۔ براگزئی کنویں سے اس وقت یومیہ تقریباً 15 ہزار بیرل تیل اور 45 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔علی پرویز ملک کے مطابق مستقبل میں اس کنویں کی پیداوار بڑھا کر 25 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 60 ملین مکعب فٹ گیس تک لے جانے کا منصوبہ ہے، جو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…