جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 15  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست مذاکرات میں ایک اہم نکتہ ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی واپسی بھی شامل ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے دنیا کے مختلف ممالک میں منجمد ہیں۔ اس دوران امریکا نے ایران کے تیل کی آمدنی، مرکزی بینک کے ذخائر اور دیگر مالی وسائل کو کئی دہائیوں سے روک رکھا ہے۔اس سلسلے کی ابتدا 14 نومبر 1979 کو ہوئی، جب اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک حکم نامے کے ذریعے امریکی بینکوں میں موجود تقریباً 8 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔ بعد ازاں یہ پابندیاں وسیع ہو کر صنعتی اور توانائی کے شعبوں تک پھیل گئیں، جس کے باعث کئی عالمی کمپنیوں نے ایران میں اپنے منصوبے ختم کر دیے اور بڑی سرمایہ کاری رُک گئی۔1981 میں الجزائر معاہدے کے تحت کچھ اثاثے ایران کو واپس کیے گئے، تاہم یہ رقم محدود تھی اور سخت شرائط کے ساتھ دی گئی۔ ایران کو تقریباً 3.6 ارب ڈالر موصول ہوئے جبکہ باقی رقوم مختلف قانونی دعوؤں کی ادائیگی کے لیے روک لی گئیں۔ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم اندازوں کے مطابق ابتدائی طور پر منجمد کیے گئے اثاثے 8 سے 11 ارب ڈالر کے درمیان تھے۔2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد پابندیوں میں کچھ نرمی آئی اور ایران کو اپنے بعض اثاثوں تک محدود رسائی حاصل ہوئی۔ اس وقت مختلف اندازوں میں یہ رقم 50 سے 100 ارب ڈالر تک بتائی گئی،

جبکہ ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریباً 29 ارب ڈالر تھی، جس کا بڑا حصہ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں میں رکھا گیا تھا۔اس معاہدے کے تحت ایران کو کچھ مالی وسائل ملے، مگر یہ سہولت عارضی ثابت ہوئی۔ 2018 میں امریکا نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس کے نتیجے میں بحال شدہ اثاثے بھی دوبارہ منجمد ہو گئے۔بعد ازاں ستمبر 2023 میں قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے نے اس معاملے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ قطر کی ثالثی سے طے پانے والے اس سمجھوتے کے تحت جنوبی کوریا میں موجود ایران کی تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کی تیل آمدنی کو دوحہ میں مخصوص اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی، تاکہ ان رقوم کو محدود شرائط کے تحت استعمال کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…