اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ایک جنگ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں بے گناہوں کا قتل ہو گیا تو حضور اکرم ﷺ نے کیا کام کیا؟

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

جناب خالدؓ عزیٰ کو ختم کرنے کے بعد قبیلہ بنو جزیمہ کی طرف بڑھ گئے۔ اہل قبیلہ نے انہیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو مسلح ہو کر نکل آئے۔ حضرت خالدؓ نے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے لوگ تو مسلمان ہو گئے ہیں۔ قبیلہ کے ایک شخص نے ان سے کہا ارے! یہ خالدؓ ہیں۔ اگر تم نے ہتھیار ڈال دئیے تو یہ تمہیں گرفتار کر لیں گے اور قید کر لینے کے بعد تمہاری گردنیں اڑا دیں گے۔ اس کے جواب میں قبیلہ کے چند

اشخاص نے اپنے (اس) صلاح کار سے کہا آپ ہمیں قتل کرانا چاہتے ہیں۔ دوسرے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔ لڑائی مٹ چکی ہے۔ ہر طرف امن و امان کا پہرہ ہے! آخر ایک ایک نے ہتھیار ڈال دئیے مگر اس کے بعد حضرت خالدؓ نے وہی کیا جو ان کے اس ناصح نے ان سے کہا تھا۔ ان کے مشکیں بندھوا دی گئیں اور قتل گاہ میں لے جا کرتہ تیغ کرا دئیے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرط غم سے بے قرار ہو گئے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر حضور خداوندی میں التجا کی:اللھم انی ابرامن ماصنع خالدؓ بن ولید۔یا اللہ! میں خالدؓ کی اس کرتوت سے بری الذمہ ہوں۔اور حضرت علیؓ کو بہت سا مال و زر دے کر مظلومین کی طرف بھیجا تاکہ ان کی تعداد کے مطابق دیت ادا کی جائے اور جناب علیؓ کو تاکید فرما دی کہ ضیاع نفوس و اموال کو معاملہ میں جاہلیت کی ناپ تول کو اپنے قدموں تلے روند دیجئے۔حضرت علیؓ نے فراخ دلی کے ساتھ دیت اور امول کا تاوان ادا کیا اور ادائے دیت کے بعد جو رقم بچی وہ بھی احتیاطاً انہیں عطا فرما دی تاکہ اگر کسی اور قسم کے ضیاع کا انکشاف نہیں ہوا تو اس کی تلافی ہو جائے۔ قیام مکہ کے اس پندھر واڑے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر اور گرد و نواح سے بتوں کا ایک ایک مٹھ زمین کے برابر کر دیا اور بیت اللہ کے مناصب میں صرف دو عہدے برقرار رکھے۔
بحوالہ :حیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: صلحِ حدیبیہ سے وفات ابراہیمؓ تک مصنف: محمد حسین ہیکل

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…