ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا کے آرمی چیف کا طیارہ کیوں تباہ ہوا؟ آخری پیغام سمیت اہم تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 25  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک) ترکی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد احمد الحداد کو لے جانے والا طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔ترکیہ کے صدارتی محکمۂ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران کے مطابق حادثے سے کچھ دیر قبل طیارے کے عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو برقی نظام میں خرابی سے آگاہ کرتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی تھی۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ پائلٹس نے انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ پر فوری لینڈنگ کا فیصلہ کیا، مگر واپسی کے دوران طیارے سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ترک وزیرِ انصاف یلماز طنج نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے پراسیکیوٹر جنرل آفس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تفتیش شروع کر دی ہے۔پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے نے ابتدا میں معمول کے مطابق بلندی حاصل کی، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کی اونچائی تیزی سے کم ہونا شروع ہوئی اور ٹیک آف کے تقریباً 16 منٹ بعد طیارہ ریڈار اسکرین سے غائب ہو گیا۔ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ جس مقام پر طیارہ لاپتا ہوا وہاں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔

بعد ازاں لیبیا کی عبوری حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے جنرل محمد احمد الحداد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں کئی اعلیٰ فوجی افسران اور سرکاری اہلکار بھی جان سے گئے۔واقعے سے متعلق کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ان کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔حادثے میں جان کھونے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل الفیتوری غریبیل، بریگیڈیئر محمود القطيوی، محمد العصاوی دیاب اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب بھی شامل ہیں۔لیبیا کی وزارتِ دفاع کا ایک خصوصی وفد بدھ کے روز انقرہ پہنچے گا، جہاں وہ حادثے کی مکمل تفصیلات اور وجوہات کا جائزہ لے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…