پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

لیبیا کے آرمی چیف کا طیارہ کیوں تباہ ہوا؟ آخری پیغام سمیت اہم تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 25  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک) ترکی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد احمد الحداد کو لے جانے والا طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔ترکیہ کے صدارتی محکمۂ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران کے مطابق حادثے سے کچھ دیر قبل طیارے کے عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو برقی نظام میں خرابی سے آگاہ کرتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی تھی۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ پائلٹس نے انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ پر فوری لینڈنگ کا فیصلہ کیا، مگر واپسی کے دوران طیارے سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ترک وزیرِ انصاف یلماز طنج نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے پراسیکیوٹر جنرل آفس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تفتیش شروع کر دی ہے۔پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے نے ابتدا میں معمول کے مطابق بلندی حاصل کی، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کی اونچائی تیزی سے کم ہونا شروع ہوئی اور ٹیک آف کے تقریباً 16 منٹ بعد طیارہ ریڈار اسکرین سے غائب ہو گیا۔ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ جس مقام پر طیارہ لاپتا ہوا وہاں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔

بعد ازاں لیبیا کی عبوری حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے جنرل محمد احمد الحداد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں کئی اعلیٰ فوجی افسران اور سرکاری اہلکار بھی جان سے گئے۔واقعے سے متعلق کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ان کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔حادثے میں جان کھونے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل الفیتوری غریبیل، بریگیڈیئر محمود القطيوی، محمد العصاوی دیاب اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب بھی شامل ہیں۔لیبیا کی وزارتِ دفاع کا ایک خصوصی وفد بدھ کے روز انقرہ پہنچے گا، جہاں وہ حادثے کی مکمل تفصیلات اور وجوہات کا جائزہ لے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…