ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

شوہر دوسری شادی کی کوشش کر رہا ہے، پاکستانی خاتون کی نریندر مودی سے مداخلت کی اپیل

datetime 8  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد)نیوز ڈیسک)کراچی کی رہائشی نکیتا ناگدیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھارتی شوہر وکرم ناگدیو نے انہیں پاکستان میں اکیلا چھوڑ کر بھارت میں دوسری شادی کی تیاری شروع کر دی ہے۔نکیتا کے مطابق دونوں کی شادی 26 جنوری 2020 کو کراچی میں ہندو روایات کے تحت انجام پائی۔ شادی کے ایک ماہ بعد 26 فروری کو وکرم انہیں اپنے ساتھ بھارت لے گئے۔ نکیتا کا کہنا ہے کہ کچھ ہی مہینوں بعد حالات اچانک بدل گئے اور 9 جولائی 2020 کو انہیں اٹاری بارڈر پر یہ کہہ کر پاکستان واپس بھیج دیا گیا کہ ویزا میں مسئلہ ہے، جبکہ وہ اس فیصلے پر مجبور کی گئیں۔ ان کے مطابق اس کے بعد شوہر نے انہیں کبھی واپس بلانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔کراچی سے جاری ویڈیو بیان میں نکیتا نے بتایا کہ وہ بار بار اپنے شوہر سے درخواست کرتی رہیں مگر ہمیشہ انہیں ٹال دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد سسرال والوں کا رویہ بدل گیا اور انہیں معلوم ہوا کہ وکرم کا ایک خاتون رشتہ دار کے ساتھ تعلق ہے۔ جب انھوں نے اس بارے میں شکایت کی تو جواب ملا کہ “لڑکوں کے ایسے تعلقات ہوتے رہتے ہیں۔

“نکیتا کے مطابق کووِڈ لاک ڈاؤن کے دوران دباؤ ڈال کر انہیں کراچی واپس بھیجا گیا اور پھر بھارت میں ان کی واپسی روک دی گئی۔ انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ انہیں انصاف دلانے کے لیے مداخلت کی جائے۔پاکستان واپس آ کر انہیں پتا چلا کہ وکرم دہلی کی ایک دوسری خاتون سے شادی کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ ان کے درمیان قانونی نکاح ابھی بھی برقرار ہے۔ اس پر نکیتا نے 27 جنوری 2025 کو تحریری شکایت جمع کروائی۔یہ معاملہ سندھی پنچ میڈی ایشن اینڈ لیگل کاؤنسل سینٹر کے سامنے لایا گیا، جو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ وکرم اور ان کی ممکنہ منگیتر کو نوٹس بھی بھجوائے گئے، تاہم صلح نہ ہو سکی۔30 اپریل 2025 کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ نکیتا اور وکرم دونوں بھارتی شہری نہیں ہیں، لہٰذا کیس پاکستان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ ساتھ ہی سفارش کی گئی کہ وکرم کو پاکستان ڈی پورٹ کیا جائے تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…