اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی میں سب سے زیادہ جائیداد خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر آ گئے

datetime 12  مارچ‬‮  2025 |

دبئی (این این آئی)دبئی میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ دبئی میں جائیداد خریدنے والے پاکستانیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ سب سے زیادہ جائیداد خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔پاکستانیوں کی دبئی میں جائیداد کی خریداری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ سال دبئی میں سب سے زیادہ جائیداد خریدنے کرنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر پہنچ گئے۔ اس سے پہلے پاکستانی ساتویں نمبر پر تھے۔دبئی کی پراپرٹی کنسلٹنسی بیٹر ہومز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اس حوالے سے پہلے نمبر پر ہیں۔

یو اے ای کے ڈویلپر ڈاماک کے مطابق رواں سال دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں 5 سے 8 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ جبکہ پام جمیرا اور ڈان ٹآن دبئی جیسے لگژری مقامات پر قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ متوقع ہے۔جائیداد کی خریداری کے حوالے سے برطانوی دوسرے نمبر پر رہے جبکہ روسی خریدار تیسری سے نویں پوزیشن پر آگئے۔ ترک شہری دسویں نمبر پر ہیں۔بیٹر ہومز نے رپورٹ میں بتایا کہ 2024 دبئی میں بیچی گئی پراپرٹی کی مجموعی مالیت 423 ارب درہم رہی، جو سالانہ بنیاد پر لین دین کی مالیت اور حجم میں 30 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

لگژری پراپرٹی کے شعبے نے اپنی مسلسل شاندارکارکردگی سے لندن اور نیویارک جیسے شہروں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔دبئی کی ریئل اسٹیٹ اسٹریٹیجی 2023 کا ہدف بھی ایک کھرب درہم کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرنا ہے، جبکہ شہر کی آبادی 2027 تک 43 لاکھ 40 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے موجودہ رئیل اسٹیٹ رجحان وقتی نہیں بلکہ ایک مستحکم مارکیٹ کا عکاس ہے، جو ہوٹل انڈسٹری پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران، فائیو اسٹار ہوٹل انڈسٹری میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…