پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

بھارت سے بیدخلی پر پاکستان کیوں نہیں آئے؟ ذاکر نائیک نے بتادیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)معروف بھارتی مبلغ اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا ہے کہ وہ پاکستان آنے سے اس لیے کتراتے رہے کہ انہیں خدشہ تھا کہ بھارتی حکومت پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیتی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ماضی میں 1991 یا 1992 میں پاکستان آچکے ہیں جبکہ متعدد بار انہوں نے پاکستان آنے کا منصوبہ بھی بنایا لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ مسائل ہوجانے کی وجہ سے ان کا آنا ممکن نہ ہوا۔

پروگرام میں بات کرتے ہوئے ذاکر نائیک نے بتایا کہ 2016 میں بھارت سے نکالے جانے کے فوری بعد انہوں نے پاکستان جانے کا ارادہ نہیں کیا لیکن چند سال بعد انہوں نے ارادہ بنایا تھا۔ان کے مطابق بھارتی حکومت کی نظر میں وہ سب سے بڑے دہشتگرد ہیں، کیونکہ ان کی تبلیغ سے وہاں کے لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان پر نہ صرف بنگلہ دیش میں بم دھماکے کرانے کا الزام لگایا گیا بلکہ ایسے الزامات بھی لگائے گئے کہ دہشتگرد ان کی تقریریں سن کر ان سے متاثر ہوئے لیکن ان پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔

معروف مبلغ کے مطابق بھارتی سے بے دخلی کے بعد 2018 تک انہیں لگتا رہا کہ وہ شاید واپس بھارت چلے جائیں لیکن 2019 تک انہیں پتا چل گیا تھا کہ وہ اب دوبارہ بھارت نہیں جا سکیں گے اس لیے وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بتایا کہ ان پر پاکستان جانے پر کبھی پابندی نہیں تھی اور نہ ہی کبھی پاکستان نے ویزا دینے سے انکار کیا، پاکستان میں ہر کوئی انہیں جانتا ہے، ان کی بہت عزت کی جاتی ہے، انہیں محبت دی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ دنیا میں کسی بھی ملک چلے جائیں وہاں ان سے پاکستانی سفیر ضرور ملنے آتے ہیں، سب انہیں چاہتے ہیں۔مبلغ و اسکالر نے بتایا کہ انہیں بھارت میں تبلیغ کرنے کا سب سے زیادہ مزہ آتا تھا، وہاں 10 لاکھ افراد بھی جمع ہوتے تھے جس میں سے 25 فیصد غیر مسلم ہوتے تھے۔ان کے مطابق بھارت جیسا مجمع دیگر چند ممالک میں ہوسکتا ہے جس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا ء شامل ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ بھارت سے بے دخل کیے جانے کے بعد اگر وہ پاکستان کا انتخاب کرتے تو ان کا ادارہ بند کردیا جاتا یا پھر ان پر پاکستانی خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیا جاتا اس لیے وہ پاکستان نہیں آئے۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ممکنہ طور پر وہ رواں برس کے اختتام تک پاکستان کا دورہ کریں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو بھی وہ جلد ہی پاکستان آئیں گے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…